تلنگانہ آر ٹی سی میں پھر ایک مرتبہ ہڑتال کی تیاریاں

,

   

حکومت نے وعدوں کی تکمیل نہیں کی، آئندہ ماہ سے بھوک ہڑتال کے آغاز کا فیصلہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ آر ٹی سی میں پھر ایک مرتبہ ہڑتال کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے کیونکہ ایک سال گذرنے کے باوجود 48000 آر ٹی سی ملازمین حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ آر ٹی سی ملازمین نے 52 دنوں کی ہڑتال کی تھی جو تاریخ کی سب سے طویل ہڑتال ثابت ہوئی۔ حکومت کی جانب سے ہڑتال کے خاتمہ کے وقت کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کے بعد آر ٹی سی یونینوں نے یکم ڈسمبر سے بھوک ہڑتال کے آغاز کی دھمکی دی ہے۔ گزشتہ سال ہڑتال میں پانچ ملازمین نے خودکشی کی تھی جبکہ تنخواہ سے محرومی کے نتیجہ میں تقریباً 30 ملازمین صدمہ سے فوت ہوگئے تھے۔ آر ٹی سی ورکرس اور ایمپلائز یونین نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی حکومت مطالبات کی یکسوئی کو ٹالنے کی کوشش کررہی ہے۔ ملازمین کو 3 ماہ کی تنخواہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا جو کہ ہڑتالی مدت کے دوران روک دی گئی تھی۔ وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے ملازمین کے سیٹلمنٹ کی کارروائی اندرون 12 یوم مکمل کرنے کا تیقن دیا گیا تھا۔ یونین نے کہا کہ چیف منسٹر کی جانب سے کئے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے ہیں۔ آر ٹی سی انتظامیہ نے 2013 پے ریویژن کے مطابق بقایا جات کی یکسوئی نہیں کی ہے۔ 2017 سے تنخواہوں پر نظرثانی نہیں کی گئی۔ 2018 سے وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے ملازمین کے سیٹلمنٹ کی کارروائی زیر التواء ہے۔ یونین نے الزام عائد کیا کہ آر ٹی سی انتظامیہ نے کریڈٹ کوآپریٹیو سوسائٹی سے 675 کروڑ حاصل کئے لیکن گذشتہ دو برسوں میں یہ رقم ادا نہیں کی گئی۔ اسی دوران آر ٹی سی کے منیجنگ ڈائرکٹر سنیل شرما نے کہا کہ کوآپریٹیو سوسائٹی کی رقم کورونا وباء کے نتیجہ میں فنڈز کی کمی کے سبب جاری نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کے دیگر مطالبات کی عنقریب یکسوئی کردی جائے گی۔ واضح رہے کہ ملازمین نے گذشتہ سال 26 مطالبات کے ساتھ 5 اکٹوبر کو ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ملازمین نے آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام اور بس ڈرائیورس و کنڈکٹرس کو جاب سیکورٹی فراہم کرنے کی مانگ کی تھی۔