تلنگانہ آر ٹی سی کو سال کے پہلے چھ ماہ میں 1246 کروڑ کا نقصان

   

دیوالی کے بعد شرحوں میں اضافہ کا اندیشہ ، یومیہ 16 تا 18 کروڑ آمدنی متوقع
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ آر ٹی سی کا خسارہ گھٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ۔ ایک طرف معاشی مسائل پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں تو دوسری طرف قرض کا بوجھ مزید مسائل پیدا کررہا ہے ۔ سال کے پہلے چھ ماہ میں آر ٹی سی کو 1246 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ گذشتہ مالیاتی سال اسی وقت 1424 کروڑ روپئے کے نقصانات تھے ۔ گذشتہ سال بہ نسبت جاریہ سال 178 کروڑ روپئے کے نقصانات کم ہوئے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے خسارے میں چلنے والے آر ٹی سی کو نفع بخش ادارے میں تبدیل کرنے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ حال میں صدر نشین اور منیجنگ ڈائرکٹر کا تقرر کیا گیا ہے ۔ گذشتہ سال کورونا بحران کے باعث آر ٹی سی سرویسز کو کم کیا گیا ۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کے لیے عوام کی جانب سے دلچسپی بھی نہیں دکھائی گئی ۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مابین بین ریاستی بسیں نہیں چلائی گئی ۔ جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوگیا ۔ تقریبا 1000 بسوں کی خدمات کو معطل کردیا گیا تھا ۔ کورونا کنٹرول میں آنے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے ۔ بتکماں دسہرا تہواروں شادیوں کی سیزن کی وجہ سے آر ٹی سی کو 3.5 کروڑ کی آمدنی ہوئی ۔ کئی برسوں کے بعد آر ٹی سی کو یومیہ 14.79 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ دیوالی کے بعد آر ٹی سی کرایوں میں اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ چیف منسٹر نے آر ٹی سی بسوں کے شرحوں میں اضافہ کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ ڈیزل کی قیمتوں میں دن بہ دن اضافہ سے آر ٹی سی کو 50 فیصد کا نقصان ہوا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کرایوں میں 15 تا 20 فیصد اضافہ کرنے کا امکان ہے ۔ دو سال قبل دسمبر 2019 میں فی کلو میٹر پر 20 پیسے کا اضافہ کیا گیا اس اضافہ سے آر ٹی سی کی یومیہ آمدنی 13 کروڑ کو عبور کرچکی تھی ۔ دیوالی کے بعد شرحوں میں اضافہ سے آر ٹی سی کی یومیہ آمدنی 16 تا 18 کروڑ ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔ آر ٹی سی شرحوں میں زیادہ اضافہ کرنے پر عوام کی جانب سے متبادل ٹرانسپورٹ کی طرف راغب ہونے کا بھی عہدیداروں کی جانب سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔۔ ن