…… ( تلنگانہ اسمبلی میں وقفہ سوالات ) ……

   

l موجودہ اضلاع کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی
l خواتین کو مفت سفر کی سہولت کے بعد آر ٹی سی بسوں کی تعداد میں اضافہ
l چیریال ریوینیو ڈیویژن کی تشکیل کا تیقن
l اسمبلی حلقہ جات ترقیاتی فنڈ کے تحت 800 کروڑ کی منظوری
l اندراماں ہاؤزنگ کے تحت 4.50 لاکھ مکانات کی تعمیر
l بڑی مندروں میں غذائی اجناس کے ٹنڈرس میں بے قاعدگیاں
حیدرآباد۔/17ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے واضح کیا کہ تلنگانہ حکومت موجودہ اضلاع میں کوئی کمی یا اضافہ کا منصوبہ نہیں رکھتی اور موجودہ نظام برقرار رہے گا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کانگریس کے بی ایلیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مال نے کہا کہ ریاست میں بعض گوشوں کی جانب سے یہ غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے کہ حکومت بعض اضلاع کو ختم کردے گی اور نئے اضلاع کی تشکیل عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وہ حکومت کی جانب سے عوام کو تیقن دینا چاہتے ہیں کہ موجودہ اضلاع کی تعداد میں کمی و بیشی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ کسی بھی ضلع کو ختم نہیں کیا جائے گا اور کوئی نیا ضلع تشکیل نہیں پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 33 اضلاع ، 76 ریوینیو ڈیویژنس اور 621 منڈل برقرار رہیں گے۔ وزیر مال نے کہا کہ حکومت ریاست میں 11 نئے ریوینیو ڈیویژنس کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے ان میں سے 4 ریوینیو ڈیویژنس کیلئے ابتدائی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ حکومت کو ایک ریوینیو ڈیویژن کے بارے میں نمائندگی موصول ہوئی ہے اور معاملہ حکومت کے زیر غور ہے۔ سرینواس ریڈی نے کہا کہ متعلقہ ضلع کلکٹرس سے رپورٹ طلب کی گئی ہے اور رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیر مال نے آلیر اسمبلی حلقہ میں ریوینیو ڈیویژن کے قیام کو حکومت کے زیر غور قرار دیا۔
ll وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے کہا کہ چنور اسمبلی حلقہ میں آر ٹی سی ڈپو کے قیام کی تجویز حکومت کے زیر غور ہے۔ وقفہ سوالات میں ویویک وینکٹ سوامی کے سوال پر پونم پربھاکر نے کہا کہ حکومت نے ڈسٹرکٹ منرل فنڈ ٹرسٹ کے تحت 4 کروڑ روپئے ڈسمبر 2022 میں جاری کئے تھے۔ پہلی قسط کے طور پر 1.20 کروڑ جاری کئے گئے۔ بس ڈپو کی تعمیر کیلئے سرکاری اراضی آر ٹی سی کے حوالے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بس ڈپو کی تعمیر کے سلسلہ میں ٹنڈرس طلب کئے گئے اور کامیاب بولی دہندہ کو 29 جولائی 2023 کو کام الاٹ کیا گیا۔ تعمیری کام مئی 2024 تک مکمل کیا جانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کمپاونڈ وال کی تعمیر کا کام مکمل ہوچکا ہے اور بس ڈپو کی تعمیر بیسمنٹ سطح تک مکمل ہوچکی ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم التواء کے سبب 5 جنوری 2024 کو تعمیری کام روک دیا گیا۔ حکومت ہائی کورٹ کے حکم التواء کو ختم کرنے کی مساعی کررہی ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ خواتین کو آر ٹی سی میں مفت سفر کی سہولت کے آغاز کے بعد آر ٹی سی بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بس ڈپو کے قیام کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط طئے کئے گئے۔
ll وزیر مال سرینواس ریڈی نے چیریال ریوینیو ڈیویژن کی تشکیل کا ارکان کو تیقن دیا۔ وقفہ سوالات کے دوران بی آر ایس کے پی راجیشور ریڈی نے چیریال ریوینیو ڈیویژن کی تشکیل کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر کونڈا سریکھا نے ریوینیو ڈیویژن کی تشکیل کا وعدہ کیا ہے جبکہ ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے بھونگیر کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ریوینیو ڈیویژن کے حق میں احتجاج کیا تھا۔ وزیر مال نے تحریری جواب میں کہا کہ چیریال کو ریوینیو ڈیویژن میں تبدیل کرنے کی کوئی تجویز حکومت کے زیر غور نہیں ہے تاہم ساتھی ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کی اپیل پر انہوں نے اس مسئلہ پر کلکٹر سے رپورٹ طلب کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ نئے ریوینیو ڈیویژن اور منڈل کی تشکیل کیلئے کئی نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں تاہم کلکٹر رپورٹ کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوب آباد، مدہول، بوتھ، تانڈور، جڑچرلہ اور ویملواڑہ میں ریوینیو ڈیویژن کے قیام کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ریوینیو ڈیویژن اور 31 نئے منڈل قائم کئے گئے ہیں۔ وزیر مال نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں اضلاع کی تشکیل کے وقت اسمبلی حلقہ جات پر توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں ایک اسمبلی حلقہ تین اور چار اضلاع میں منقسم ہے۔ بی آر ایس حکومت کی ان خامیوں کو دور کرنے کیلئے کابینہ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔
ll ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکراکارما نے کہا کہ اسمبلی حلقہ جات کے ترقیاتی فنڈز کی اجرائی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے 119 اسمبلی حلقہ جات کیلئے ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے سے متعلق اطلاعات کی تردید کی۔ بی جے پی کے دھنپال سوریا نارائنا کے سوال پر ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ حلقہ جات ترقیاتی پروگرام کے تحت مالیاتی سال 2024-025 میں 800 کروڑ مختص کئے گئے اور ہر رکن اسمبلی و کونسل کو فی کس 5 کروڑ روپئے ترقیاتی کاموں کیلئے الاٹ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے مخصوص اسمبلی حلقہ جات کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات کو مسترد کردیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تمام ارکان اسمبلی و کونسل کو یکساں طور پر ترقیاتی فنڈز جاری کئے جارہے ہیں۔ دھنپال سوریا نارائنا نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے انتخابی حلقہ کوڑنگل کیلئے 800 کروڑ سے زائد ترقیاتی فنڈ جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے حلقہ جات کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی اور نظام آباد اسمبلی حلقہ کیلئے کم از کم 100 کروڑ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی رکن نے شکایت کی کہ انچارج وزراء متعلقہ ارکان اسمبلی سے مشاورت کے بغیر ہی ترقیاتی فنڈز جاری کررہے ہیں۔
ll وزیر مال و ہاؤزنگ پی سرینواس ریڈی نے کہا کہ اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے تحت حکومت غریبوں کیلئے 4.50 لاکھ مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انیل کمار ریڈی اور دوسروں کے سوال پر وزیر ہاؤزنگ نے بتایا کہ ریاست میں اندراماں انڈلو اسکیم کے پہلے مرحلہ میں ہر اسمبلی حلقہ کے تحت 3500 مکانات کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ پراجکٹ کی مالیت 22500 کروڑ ہے اور اراضی رکھنے والے غریب خاندانوں کو صد فیصد سبسیڈی کے طور پر 5 لاکھ روپئے کی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سال کی تکمیل تک غریبوں کو اراضیات کے الاٹمنٹ کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پرجا پالنا میں مکانات کیلئے موصولہ درخواستوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہاؤزنگ اسکیم کو قطعیت دی جائے گی۔ وزیر ہاؤزنگ کے مطابق اندراماں انڈلو موبائیل ایپ تیار کیا گیا تاکہ مستحق خاندانوں کی نشاندہی کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت سکریٹریز اور وارڈ آفیسرس کو ضلع کلکٹرس کی جانب سے سرویئر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے تاکہ پرجا پالنا میں موصولہ درخواستوں کی جانچ کی جاسکے۔ مواضعات اور میونسپل وارڈز کی سطح پر سروے کا 10 ڈسمبر کو آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں اندراماں پروگراموں سے متعلق شعور بیداری کیلئے اندراماں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ سروے کی تکمیل کے بعد مستحق افراد کی فہرست گرام اور وارڈ سبھا میں پیش کی جائے گی۔ گرام سبھا اور وارڈ سبھا کی منظوری کے بعد کلکٹرس الاٹمنٹ کے احکامات جاری کریں گے۔ مکانات کے الاٹمنٹ میں بیواؤں ، بے زمین زرعی مزدوروں، معذورین اور قبائیلی گروپس سے تعلق رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔
ll وزیر انڈومنٹ کونڈا سریکھا نے کہا کہ تلنگانہ کی اہم مندروں میں ضروری غذائی اجناس کے حصول کیلئے ٹنڈرس میں مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایات اخبارات کے ذریعہ موصول ہوئی ہیں۔ ڈی سدھیر ریڈی کے سوال پر وزیر انڈومنٹ نے کہا کہ میڈیا کے ذریعہ موصولہ شکایات کو عہدیداروں سے رجوع کردیا گیا اور الزامات کے بارے میں باقاعدہ تحقیقات کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے غیر معیاری غذائی اجناس کی سربراہی کی شکایات کو مسترد کردیا۔ کونڈا سریکھا نے کہا کہ عہدیداروں کو سرکولر جاری کرتے ہوئے ٹنڈرس کی طلبی کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں۔ ای ۔ ٹنڈرس اور ٹنڈرس میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔1