تلنگانہ اقلیتی کمیشن نے پارسی قبرستان پر ناجائز قبضوں کا جائزہ لیا

   

صدرنشین محمد قمرالدین اور ارکان کا دورہ نظام آباد، اقلیتی مسائل پر سماعت
حیدرآباد۔ 4 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن کے وفد نے نظام آباد کا دورہ کرتے ہوئے اقلیتوں کے مسائل کا جائزہ لیا۔ صدرنشین محمد قمرالدین کے علاوہ ارکان شنکر لوکے، جی نوریا اور سردار سریندر سنگھ کے علاوہ کمیشن کے قانونی مشیر ایم اے قدیر صدیقی دورے میں شریک تھے۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر نظام آباد اور ریونیو و پولیس حکام نے وفد کا استقبال کیا۔ محمد قمرالدین نے کنٹیشور ولیج میں واقع پارسی قبرستان کا معائنہ کیا جو سروے نمبر 143 پر ایک ایکڑ 39 گنٹہ اراضی پر محیط ہے۔ ایک ایکڑ 28 گنٹے اراضی کو غیر مجاز قابضین نے اپنی تحویل میں رکھا ہے اور صرف 11 گنٹے اراضی قبرستان کے لیے موجود ہے۔ صدرنشین اقلیتی کمیشن نے کنٹیشور کے ڈپٹی تحصیلدار کو اس سلسلہ میں تحقیقات کرنے اور کارروائی کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ پارسی طبقے کی جانب سے قبرستان کی اراضی پر قبضوں کے سلسلہ میں کمیشن کو شکایات موصول ہوئیں جس پر انہوں نے شخصی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ڈپٹی تحصیلدار نے تیقن دیا کہ وہ تحصیلدار کو اراضی کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے اندرون ایک ہفتہ کمیشن کو رپورٹ روانہ کریں گے۔ صدرنشین اقلیتی کمیشن اور ارکان نے اقامتی اسکول سوسائٹی کے تحت چلنے والے اسکول کا دورہ کیا۔ انہوں نے اسکول کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر محمد ریاض نے اسکول کا معائنہ کرایا۔ محمد قمرالدین نے نظام آباد ضلع میں اقلیتوں سے متعلق مختلف اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا جس میں اوورسیز اسکالرشپ اسکیم، شادی مبارک، ٹریننگ ایمپلائمنٹ اور معاشی امداد سے متعلق اسکیمات شامل ہیں۔ انہوں نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے عمل آوری، اردو میڈیم اسکولس کی نئی عمارتوں کی تعمیر اور مالاپلی میں گرلز گورنمنٹ اردو میڈیم کالج کے قیام کے سلسلہ میں نمائندگیاں وصول کیں۔ انہوں نے تیقن دیا کہ اس سلسلہ میں حکومت سے سفارش کی جائے گی۔