تلنگانہ امن کے مرکز میں تبدیل ، فسادات سے پاک :چیف منسٹر کے سی آر

   

ترقی اور خوشحالی کیلئے بی آر ایس کو ووٹ دیں، تین انتخابی جلسوں سے خطاب

حیدرآباد ۔ 28 ۔ نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ سارے ملک کے امن و امان کے مرکز میں تبدیل ہوچیا ہے نہ کبھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور نہ ہی کبھی کرفیو نافذ کرنے کی نوبت آئی ہے۔ ہر طرف خوشحالی ہے ، گنگا جمنی تہذیب تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ کانگریس کی تاریخ فسادات سے بھری پڑی ہے ۔ اگر کانگریس کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کیا گیا تو فسادات کو جھیلنا پڑے گا ۔ کیا عوام اس کیلئے تیار ہے۔ اگر امن اور ترقی چاہئے تو بی آر ایس کے تمام امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایئے فرقہ پرستوں اور فرقہ پرسوں کے آلہ کار کو سبق سکھائیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے انتخابی مہم کے اختتام سے قبل تین اسمبلی حلقوں ورنگل ایسٹ ، ورنگل ویسٹ اور گجویل کے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیفمنسٹر کے سی آر نے کہا کہ سارے ملک کی نظریں تلنگانہ کے انتخابات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ بی آر ایس کو شکست دینے کیلئے کانگریس اور بی جے پی ایک ہی ایجنڈہ پر کام کر رہی ہے اور دونوں جماعتوں کے سینئر قائدین بشمول وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دوسرے مرکزی وزراء بی جے پی ریاستوں کے چیف منسٹر اور بی جے پی کے قومی قائدین تلنگانہ میں گھوم رہے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس کے قائدین راہول گاندھی ، پرینکا گاندھی ۔ ملکارجن کھرگے کے علاوہ کانگریس کے چیف منسٹرس کے ساتھ دوسرے قائدین تلنگانہ کے چپہ چپہ میں گھوم رہے ہیں۔ دونوں جماعتیں خصوصی سازش تیار کرتے ہوئے بی آر ایس کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور پیسہ پانی کی طرح بہا رہے ہیں مگر میری طاقت تلنگانہ کے عوام ہے، میں نے اپنی زندگی کو داؤ پر لگاکر علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کیا ۔ اس تحریک میں کئی نوجوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں۔ علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کرنے کے بعد خصوصی منصوبہ بندی تیار کرتے ہوئے ترقی اور فلاح و بہبود کے معاملہ میں ریاست کو سارے ملک میں سرفہرست کردیا گیا ہے ۔ تلنگانہ کے عوام خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ تلنگانہ میں جہاں معیاری تعلیم کا جال پھیلا دیا گیا ہے ۔ وہی سرکاری ہاسپٹلس میں معیاری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے غریب عوام کو بہت بڑی راحت فراہم کی گئی ہے ۔ 1.60 لاکھ سرکاری اور 25 لاکھ خانگی ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔ زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ عوام کو معیاری برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ شہری اور دیہی علاقوں کو مساویانہ ترقی دی جارہی ہے ۔ عوام کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ اب کانگریس پارٹی اندرا اماں راجیم کی بات کر رہی ہے ۔ کانگریس کا اور حکومت فسادات کی داستان سے بھرا پڑا ہے ۔ فسادات میں کئی قیمتی زندگیاں ضائع ہوئی ۔ کرفیو نافذ کرنے سے عوام کے کاروبار کو نقصان پہنچا ہے ۔ بی آر ایس کا دور حکومت فسادات اور کرفیو سے پاک دور حکومت ہے ۔ ہندو مسلم بھائی بندھو کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کی ترقی ناقابل فراموش ہے ۔ ریاست میں امن و امان قائم رہنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہورہی ہے ۔ کانگریس ایک طرف جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے حکومت کو بدنام کر رہی ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی کے قائدین نفرت پھیلاتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے قائدین مرکزی حکومت کی 10 سالہ کارکردگی یا جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں کے کارناموں ترقی اور فلاحی اسکیمات کا حوالہ دیتے ہوئے تلنگانہ کے عوام سے ووٹ مانگنے کے بجائے نفرت پھیلا رہی ہے۔ مسلم تحفظات کو ختم کرنے حیدرآباد کا نام تبدیل کرنے، یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کے علاوہ دیگر متنازعہ مسائل کو چھیڑتے ہوئے ریاست کی پرامن فضاء کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ عوام سے پوچھنا چاہتے ہیں کیا ہمیں ایسی جماعتوں کی ضرورت ہے یا پھر ترقی اور فلاح و بہبود کو اہمیت دینے والی بی آر ایس چاہئے ۔ عوام کی تھوڑی سی غفلت اور لاپرواہی تلنگانہ کے مستقبل کو خطرہ میں ڈال دے گی۔ بی آر ایس کو تیسری مرتبہ کامیاب بنایا گیا تو وہ مزید جوش و خروش کے ساتھ عوامی خدمات انجام دیں گے۔ جو بھی عوام سے وعدے کئے گئے ہیں اس پر صد فیصد عمل کریں گے۔ن