حیدرآباد ۔ یکم ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ اور آندھرا پردیش مجرمانہ پس منظر رکھنے والی خاتون ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے سب سے زیادہ تناسب رکھنے والی ریاستیں بن گئی ہیں ۔ ملک بھر میں 512 خاتون ارکان مقننہ کے ایک حالیہ تجزیہ کے مطابق تلنگانہ کی 12 خاتون نمائندوں میں آٹھ 67 فیصد کو کریمنل کیسیس کی قرار دیا گیا ہے اور پانچ 42 فیصد کو سنگین کریمنل کیسیس والے قرار دیا گیا ہے ۔ اس ریاست کار یکارڈ اس محاذ پر خراب ہے ۔ اس کے بعد آندھرا پردیش کا نمبر ہے جہاں اس کے 24 حاتون ارکان مقننہ میں 14 ( 58 فیصد ) فوجداری الزامات کا سامنا کررہے ہیں اور نو ( 38 فیصد ) سنگین کریمنل کیسیس میں ملوث ہیں ۔ یہ رجحان قومی سطح پر بھی پایا جاتا ہے جہاں 512 موجودہ خاتون ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی میں 143 ( 28 فیصد ) کریمنل کیسیس رکھتے ہیں اور 78 ( 15 فیصد ) کو سنگین الزامات جیسے اقدام قتل اور قتل کا بھی سامنا ہے ۔ اے ڈی آر رپورٹ کے مطابق سیاسی جماعتوں میں ٹی ڈی پی اور اے اے پی میں مجرمانہ ریکارڈ کی خاتون ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کا فیصد سب سے زیادہ ہے جو بالترتیب 65 فیصد اور 69 فیصد ہے ۔ ان جماعتوں میں سنگین الزامات بھی خطرناک حد تک زیادہ ہیں جس میں ٹی ڈی پی کی 45 اور اے اے پی 31 فیصد خاتون لیجسلیٹرس سنگین الزامات کا سامنا کررہی ہیں ۔ آندھرا پردیش خاتون ایم پیز ؍ ایم ایل ایز کے اوسط اثاثہ جات میں بھی آگے ہے جو 74.22 کروڑ ہے ۔ ملک بھر میں فی کس خاتون لیجسلیٹرس دولت کا اوسط 20.34 کروڑ روپئے ہے اور تجزیہ کئے گئے 512 ارکان کی جملہ دولت 10,417 کروڑ روپئے ہوتی ہے ۔ 17 خاتون ایم پیز ؍ ایم ایل ایز بلینیرس ہیں ۔ جملہ 512 خاتون ارکان پارلیمنٹ ؍ ارکان اسمبلی میں 71 فیصد گریجویٹس یا اس سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں ۔ 24 فیصد کی تعلیم کلاس V اور XII کے درمیان ہے اور صرف 12 ہی ڈپلومہ ہولڈرس ہیں ۔ نوجوان خواتین کی نمائندگی ( 25 تا 40 سال ) 22 فیصد ہے جو محض 10 فیصد مرد لیجسلیٹرس کے مقابل بہت بہتر ہے ۔۔