اسمبلی اور لوک سبھا کیلئے مشترکہ انتخابی نشان پر درخواستیں طلب، جون سے تلنگانہ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی جانچ
حیدرآباد۔/10 مئی، ( سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے بشمول 9 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اور لوک سبھا الیکشن کی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی الیکشن کیلئے مشترکہ انتخابی نشان کے سلسلہ میں سیاسی پارٹیوں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ انتخابی نشان، ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ سے متعلق احکامات سال 1968 کے مطابق 2023-24 میں ہونے والے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی پارٹیوں سے مشترکہ انتخابی نشان کی درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آج اس سلسلہ میں سرکولر جاری کیا۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیوں کو 17 جولائی کے بعد انتخابی نشان کے بارے میں اپنی درخواستیں داخل کرنی ہوں گی۔ آندھرا پردیش اسمبلی الیکشن کے سلسلہ میں 12 ڈسمبر کے بعد اور لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیوں کو 17 ڈسمبر کے بعد درخواستیں داخل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ آئندہ ایک سال میں تلنگانہ، آندھرا پردیش، میزورم، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، سکم، اروناچل پردیش اور اڈیشہ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے علاوہ لوک سبھا انتخابات منعقد ہوں گے۔ تلنگانہ اسمبلی کی میعاد 16 جنوری 2024 کو ختم ہوگی جبکہ آندھرا پردیش اسمبلی کی میعاد 11 جون 2024 کو ختم ہوگی۔ لوک سبھا کی میعاد 16 جون 2024 تک ہے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی ریاستی اسمبلی کی میعاد کی تکمیل سے قبل تحلیل کردیا جائے تو اس دن سے نوٹیفکیشن کی اجرائی تک پانچ دن قبل سیاسی پارٹیاں انتخابی نشان کے بارے میں درخواستیں داخل کرسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ٹیم نے تلنگانہ کا دورہ کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا چیف الیکٹورل آفیسر کے ساتھ جائزہ لیا۔ رائے دہی میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ جون سے ریاست بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی جانچ کا کام شروع ہوگا۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے الیکشن کمیشن کی ٹیم کی آمد کے بعد واضح کیا کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات مقررہ وقت یعنی ڈسمبر میں ہوں گے جبکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اشارہ دیا ہے کہ ستمبر یا اکٹوبر میں الیکشن نوٹیفکیشن جاری کیا جاسکتا ہے۔ اگر ستمبر میں نوٹیفکیشن جاری ہو تو الیکشن اکٹوبر میں ہوگا جبکہ اکٹوبر میں شیڈول کی اجرائی کی صورت میں نومبر میں رائے دہی ہوسکتی ہے۔ر