تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ سرگرمیاں ٹھپ

   

حالات کو بہتر بنانے حکومت سے کوئی اقدامات نہیں : سرمایہ کاروں کو حکومت کے منصوبوں پر اعتماد نہیں
حیدرآباد۔5۔مارچ۔(سیاست نیوز) رئیل اسٹیٹ سرگرمیاں تلنگانہ بالخصوص ریاست کے دارالحکومت میں ٹھپ ہوتی جا رہی ہیں اور ان سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے سرکاری سطح پر کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ ریاستی حکومت کی پالیسیوںکے نتیجہ میں رئیل اسٹیٹ شعبہ میں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔شہر حیدرآباد میں رہائشی جائیدادوں کے علاوہ تجارتی اغراض کے لئے خریدی جانے والی جائیدادوں کی خرید و فروخت میں بھی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے ۔ رئیل اسٹیٹ تاجرین کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پالیسی کی تیاری اور ان سے دستبرداری کے نتیجہ میں سرمایہ کاروں کو حکومت کے منصوبوں پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ بتایاجاتاہے کہ شہر حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں کے ٹھپ ہونے کی وجوہات میں ریاستی حکومت کی جانب سے ’حیدرا‘ کے قیام کے ذریعہ خانگی جائیدادوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے نام پر ندی کے دونوں جانب طاس پر کی جانے والی کاروائیاں رئیل اسٹیٹ شعبہ کو کمزور کر رہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سال 2025 کے تیسرے سہ ماہی کے دوران شہرحیدرآباد میں 8630 رہائشی مکانات کا اضافہ ہوا ہے جبکہ سال 2024 کے تیسرے سہ ماہی کے دوران شہر حیدرآباد میں 13ہزار890 رہائشی مکانات کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اس اعتبار سے اندرون ایک برس مکانات کی تعمیر میں 38 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ۔مجموعی طور پر رہائشی جائیدادوںکی فروخت میں 23فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے سال 2025 میں مجموعی اعتبار سے شہر حیدرآباد میں 44ہزار 885 رہائشی مکانات کی فروخت عمل میں لائی گئی ہے جبکہ سال گذشتہ 58ہزار 540 رہائشی مکانات کی فروخت عمل میں لائی گئی تھی ۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025کے دوران شہر حیدرآباد کو ملک کے ان 7 شہروں میں شامل کیاگیا ہے جہاں دفاتر کے لئے سب سے زیادہ جگہ دستیاب ہے۔سال 2024 کے دوران 12.88 ملین اسکوائر فیٹ جگہ کرایہ پر دی گئی تھی لیکن 2025کے دوران اس میں 39 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور 9ملین مربع فیٹ دفاتر کی جگہ کرایہ پر دی گئی ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے ’حیدرا‘ کے علاوہ جی ایچ ایم سی کے دائرہ میں وسعت اور اس کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو 3 علحدہ کارپوریشن میں تقسیم کے فیصلہ سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا ہونے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دارالحکومت حیدرآباد میں آئندہ چند برسوں کے دوران بھی رئیل اسٹیٹ کاروبار میں بہتری پیدا ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔3