بھٹی وکرمارکا کے عہدیداروں کے ساتھ متواتر اجلاس ، پنشن میں 500 روپئے اضافہ کی امید، فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کو ترجیح
حیدرآباد ۔10 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے تلنگانہ کے بجٹ برائے مالیاتی سال 2026-27 کو قطعیت دینے کیلئے محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کئے اور ہر محکمہ سے بجٹ تجاویز حاصل کی گئیں۔ اسمبلی کے بجٹ سیشن کا 16 مارچ کو آغاز ہورہا ہے اور توقع ہے کہ بھٹی وکرمارکا 20 مارچ کو بجٹ پیش کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کا بجٹ 3.20 لاکھ سے 3.25 لاکھ کروڑ کے درمیان رہے گا ۔ بجٹ میں فلاحی اسکیمات کے علاوہ انفراسٹرکچر پراجکٹس کو ترجیح دی جائے گی۔ بھٹی وکرمارکا بجٹ تجاویز کو قطعیت دینے کیلئے گزشتہ چند دنوں سے متواتر اجلاس طلب کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بھٹی وکرمارکا نے فلاحی اسکیمات کے بجٹ کے خرچ کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ بجٹ میں فلاحی اسکیمات اور 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے لئے مناسب فنڈس مختص کئے جائیں گے۔ جن محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کئے گئے ، ان میں صحت ، آبپاشی ، پنچایت راج ، ہوم ، ایجوکیشن، بلدی نظم و نسق، انفارمیشن ٹکنالوجی ، انڈسٹریز اور مختلف طبقات کے ویلفیر ڈپارٹمنٹس شامل ہیں۔ محکمہ فینانس کو اندرون دو یوم بجٹ تجاویز کو قطعیت دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مجموعی بجٹ میں ہر سال 10 تا 15 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔ نئی اسکیمات کیلئے بجٹ ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے 2026-27 کے مجموعی بجٹ میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ کا بجٹ تقریباً 3.20 لاکھ کروڑ رہے گا جبکہ جاریہ سال بجٹ 3.04 لاکھ کروڑ تھا۔ بجٹ میں پنشن میں اضافہ سے متعلق حکومت کے وعدہ کی تکمیل کے لئے فنڈس مختص کئے جائیں گے اور اضافی پنشن پر مرحلہ وار عمل کیا جائے گا۔ کانگریس پارٹی نے ماہانہ پنشن کو 2100 روپئے سے بڑھاکر 4000 کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت پنشن میں اضافہ کے طور پر پہلے مرحلہ میں 500 روپئے کے اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے جبکہ آئندہ دو برسوں میں مزید اضافہ کے ذریعہ پنشن کو 4000 کیا جائے گا ۔ مالیاتی دشواریوں کے باعث حکومت نے مرحلہ وار طورپر پنشن میں اضافہ کے وعدہ کی تکمیل کا فیصلہ کیا ہے۔ رعیتو بندھو اسکیم کے لئے بھی بجٹ میں زائد رقم مختص کی جائے گی۔ بجٹ میں حکومت کی ترجیحات سوشیل ویلفیر اسکیم ، تعلیم و صحت ، کسانوں کی مدد ، سبسیڈی اسکیمات ، روڈ اینڈ ہائی وے ڈیولپمنٹ ، آبپاشی ، اربن انفراسٹرکچر اور برقی شعبہ جات شامل ہیں۔ بھٹی وکرمارکا نے دیہی علاقوں میں روزگار کی فراہمی کے مواقع میں اضافہ کیلئے عہدیداروں کو ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی ۔1