تلنگانہ بلدیاتی انتخابات 12,993 امیدوار انتخابی میدان

   

50 فیصد وارڈس خواتین کیلئے مختص، 8203 پولنگ مراکز، نوٹا کا آپشن بھی شامل

حیدرآباد۔ 4 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کے عمل کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ ریاست میں 2,996 وارڈس کے لئے داخل کئے گئے پرچہ نامزدگیوں کی جانچ کے بعد انتخابی میدان کی واضح تصویر سامنے آگئی ہے۔ مجموعی طور پر 20,313 امیدواروں نے پرچہ نامزدگیاں داخل کئے تھے جن میں سے 19,694 درست پائے گئے۔ بعد ازاں 6701 امیدواروں نے اپنے پرچہ نامزدگی سے دستبرداری اختیار کرلی جس کے بعد 12,993 امیدوار انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ انتخابی حکام کے مطابق آزاد امیدواروں کو بھی انتخابی نشانات الاٹ کردیئے گئے ہیں جس کے بعد عہدیدار نے اپنی ساری توجہ رائے دہی کے انتظامات پر مرکوز کردی ہے جس میں پولنگ اسٹاف کی تعیناتی، بیالٹ باکس کی تقسیم اور پولیس سیکوریٹی کے سخت انتظامات شامل ہیں۔ ریاست میں 116 میونسپلٹیز اور 7 میونسپل کارپوریشنس کے لئے یہ انتخابات منعقد ہو رہے ہیں جس میں جملہ 52.43 لاکھ ووٹرس اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کررہے ہیں۔ رائے دہندوں میں 25.62 لاکھ مرد اور 26.80 لاکھ خواتین اور 640 دیگر ووٹر شامل ہیں۔ اس طرح خواتین ووٹرس
کی تعداد زیادہ ہے۔ رائے دہی کے لئے 8203 پولنگ اسٹیشنس قائم کئے گئے ہیں۔ وارڈس ریزرویشن کے تعلق سے حکام نے بتایا کہ 7 میونسپل کارپوریشنس اور 2,996 وارڈس کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں بی سی جنرل 463، بی سی ویمن 391، ایس سی جنرل 254، ایس سی ویمن 190، ایس ٹی جنرل 147 اور ایس ٹی ویمن 40 وارڈس شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 1485 وارڈس یعنی 50 فیصد خواتین کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ انتظامی سطح پر انتخابات کے انعقاد کے لئے 90 ہزار عملے کی ضرورت ہوگی جن میں 25 ہزار پولیس ملازمین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 31,428 پریزائیڈنگ آفیسرس، 1379 ریٹرننگ آفیسرس، 1547 اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرس اور 742 زونل آفیسرس تعینات کئے جارہے ہیں۔ فیلڈ سطح پر نگرانی کے لئے 279 ایف ایس ٹی اور 381 ایس ایس ٹی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ عہدیداروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مجموعی طور پر 15 ہزار سے زائد امیدوار ان انتخابات میں مقابلہ کریں گے جبکہ ہر وارڈ میں امیدواروں کے ساتھ نوٹا (NOTA) کا آپشن بھی موجود ہوگا۔ اسی تناظر میں ریاستی الیکشن کمیشن نے 16,031 بیالٹ باکس استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان بیالٹ باکس کے تحفظ کے لئے 137 اسٹرانگ روم قائم کئے گئے ہیں جب کہ پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کے لئے بیالٹ باکس کو مراکز پر منتقل کیا جائے گا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ووٹنگ کے فیصد میں اضافہ ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ انتخابات شفاف پرامن اور منظم انداز میں مکمل کئے جاسکیں۔ 2