تلنگانہ حج کمیٹی اقربا پروری و بازآبادکاری کے مرکز میں تبدیل

   

دس لاکھ مالیتی فرنیچر کی اڈھاک بنیادوں پر خریدی کے اقدامات ، ٹنڈر نظام نظر انداز
حیدرآباد۔5۔فروری(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود پر سرکاری اصولوں اور قوانین کا اطلاق نہیں ہوتایا پھر حکومت تلنگانہ نے محکمہ اقلیتی بہبود کو سرکاری قوانین سے مستثنیٰ قرار دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے احکامات جاری کردیئے ہیں جو کہ منظر عام پر نہیں آئے ! محکمہ اقلیتی بہبود میں جاری بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے معاملات پر جانچ یا تحقیقات کے بجائے اعلیٰ عہدیدار معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے موصول ہونے والی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے عہدیداروں کو بچانے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔تلنگانہ حج کمیٹی اقرباء پروری و بازآبادکاری کے مرکز میں تبدیل ہوچکی ہے کیونکہ تلنگانہ حج کمیٹی میں کئی خریداریوں میں سرکاری اصولوں کا خیال رکھنے کے بجائے من مانی ٹنڈرس کی اجرائی اور بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کو روکنے کے لئے اقدامات کے بجائے اعلیٰ عہدیداروں کی مداخلت کے ذریعہ بلوں کی اجرائی عمل میں لائی جانے لگی ہے ۔ تلنگانہ حج کمیٹی نے 15مارچ 2025 کو 10 لاکھ سے زائد مالیت کے فرنیچر کی اڈہاک بنیادوں پر خریدی کے اقدامات کرتے ہوئے ٹنڈر کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف من مانی خریدی کی بلکہ ان بلوں کی اجرائی کو بھی یقینی بنایا گیا جبکہ 50ہزار سے زائد مالیت کی کوئی بھی خریداری کے لئے کسی بھی سرکاری ادارہ یا محکمہ کو ٹنڈر طلب کرنا لازمی ہوتا ہے ۔تلنگانہ حج کمیٹی کی مدینہ منورہ بس حادثہ میں ہونے والی بدعنوانیوں اور اہم شخصیات کے لئے 10 لاکھ روپئے فی کس اخراجات کی اجرائی کے معاملہ کے منظر عام پر آنے کے علاوہ گذشتہ موسم حج کے دوران ’سم کارڈ‘ اسکام کے منظر عام پر آنے کے بعد اب جو معاملہ سامنے آیا ہے وہ بغیر ٹنڈر طلب کئے10 لاکھ روپئے سے زائد کی لاگت کے فرنیچر کی خریداری کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ حج کمیٹی کے عہدیدار وں کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہوئے عہدیداروں کو خوفزدہ کرنے والوں نے عہدیداروں سے من مانی فیصلے کرواتے ہوئے جو فائدے حاصل کئے ہیں ان دستاویزات کو اب تلف کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے کیونکہ اعلیٰ عہدیداروں کی پشت پناہی کے نتیجہ میں اب تک کسی بھی طرح کی کاروائی سے محفوظ رہنے والے افراد و سابق عہدیداروں کے خلاف اب لوک آیوکت کے علاوہ انفورسمنٹ اور ویجلنس میں تحریری شکایات درج کروائی جانے لگی ہیں اور مرکزی حج کمیٹی سے تلنگانہ حج کمیٹی کو حاصل ہونے والی رقومات کے بے دریغ استعمال سے متعلق بھی متعدد شکایات کے باوجود کسی بھی طرح کی کاروائی نہ کئے جانے پر اب مرکزی حج کمیٹی اور مرکزی وزارت اقلیتی امور کو شکایات روانہ کی جانے لگی ہیں۔3