پولیس ایکٹ نافذ کرکے حکومت چلانے کا منصوبہ، سابق وزیر کے ٹی آر کا ٹوئیٹ
حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ اندرا ماں راجیم نہیں پولیس راجیم میں تبدیل ہورہی ہے اور حکومت ریاست کے بیشتر اضلاع میں پولیس ایکٹ نافذ کرتے ہوئے حکومت چلانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں سوال کرنے والوں پر مقدمات درج کئے جا رہے ہیں جبکہ احتجاج کرنے والوں کو پولیس کی جانب سے پیٹا جارہا ہے۔ سابق ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر کے ٹی راما راؤ نے اپنے X سابقہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ریاست میں طرز حکمرانی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ عوام کو دوبارہ جدوجہد کے لئے مجبور کر رہی ہے۔ انہو ںنے واضح کیا کہ تلنگانہ کے عوام کے لئے جدوجہد کوئی نئی چیز نہیں ہے اور حصول تلنگانہ ہی ایک جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اسی لئے حکومت کی جانب سے طاقت کے ذریعہ تلنگانہ عوام کو غلام بنانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تلنگانہ عوام اپنے حق کے لئے لڑنے کی تاریخ رکھتے ہیں اور وہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے بلکہ ریاست کے عوام اپنی جدوجہد کے ذریعہ اپنا حق حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے لئے کی جانے والی مسلسل جدوجہد کے بعد ریاست تلنگانہ نے 10 سال تک آزاد فضاء میں سانس لی ہے جبکہ ان 10 برسوں کے بعد ریاست کو دوبارہ پولیس راج میں تبدیل کرنے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں جو کہ ناقابل برداشت ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں سماج کا ہر طبقہ حکومت کی ہراسانی کا شکار ہونے لگا ہے بلکہ وہ سڑک پر اتر آنے کے لئے تیار ہے لیکن پولیس کے ذریعہ انہیں روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان میں خوف پیدا کیا جانے لگا ہے۔ انہو ں نے حکومت سے استفسار کیا کہ تلنگانہ میں عوام آزادانہ ماحول میں سانس کب لے پائیں گے!کیونکہ ریاستی حکومت 20 اضلاع میں امتناعی احکامات کے نفاذ کے ذریعہ حکومت چلارہی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست میں امن وضبط کی صورتحال کیا ہے ! مسٹر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت جمہوری تلنگانہ کو ختم کرنے کے درپہ ہے ۔3