کرن کمار ریڈی کے دور میں آر ٹی سی کا انضمام ممکن تھا، کانگریس رکن اسمبلی کا انکشاف
حیدرآباد۔/19 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس کے رکن اسمبلی جگاریڈی نے آر ٹی سی ہڑتال کے مسئلہ پر حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے رویہ پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہاکہ نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد عوام کو امید تھی کہ انہیں اپنے مسائل کے حل کیلئے احتجاج کیا ہڑتال کی نوبت نہیں آئے گی۔ لیکن حالات تبدیل ہوچکے ہیں اور عوام کو نئی ریاست تلنگانہ میں مسائل کی عدم یکسوئی سے مایوسی ہوئی ہے۔ کسی نے یہ تصور نہیں کیا تھا کہ نئی ریاست میں ان کے ساتھ اس قدر ناانصافی اور صورتحال اتنی ابتر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست میں آر ٹی سی ملازمین کی یہ پہلی ہڑتال ہے اور اسے دن بہ دن ملازمین کی تنظیموں اور عوامی تنظیموں کی تائید میں اضافہ ہورہا ہے لیکن حکومت کا رویہ افسوسناک ہے۔ ایک طرف ہائی کورٹ حکومت پر تنقید کررہی ہے تو دوسری طرف حکومت عدالت کو گمراہ کررہی ہے۔ جگا ریڈی نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں جس وقت کرن کمار ریڈی چیف منسٹر تھے اگر آر ٹی سی کے انضمام کا مسئلہ ان کے علم میں لایا جاتا تو وہ یقینی طور پر آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کردیتے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی صورتحال دگر گوں ہے۔ انہیں انتہائی کم تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور پولیس راج چل رہا ہے۔ پولیس کے ذریعہ ہڑتال کو دبانے اور مخالف حکومت آوازوں کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جگا ریڈی نے کہا کہ اگر تلنگانہ تحریک کے دوران اسوقت کی حکومت کے سی آر کے خلاف آج کی طرح پولیس کا استعمال کرتی تو علحدہ ریاست کس طرح قائم ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ جگاریڈی نے کہا کہ حکومت کو انسانیت کی بنیاد پر آر ٹی سی ملازمین کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیئے۔