تلنگانہ سارے ملک میں تیزی سے ترقی کرنے والی ریاست

,

   

اختراعات اور اسٹارٹپس کی مکمل حوصلہ افزائی، سی آر ٹی آئی کے اجلاس سے کے ٹی آر کا خطاب

حیدرآباد۔ 2 مارچ (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ کے تمام شعبوں کی ترقی ملک کی دوسری ریاستوں کے لئے مثالی ہے۔ حکومت کی جانب سے بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ شہر حیدرآباد کے بیگم پیٹ میں واقع ایک ہوٹل میں منعقدہ سی آئی آئی کے اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے 7 سالہ دور حکومت کے دوران تلنگانہ کی فی کس آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا جو 2.78 لاکھ تک پہنچی ہے۔ مغربی بنگال، کرناٹک، مہاراشٹرا کے بعد سب سے بڑا مالیاتی نظام رکھنے والی ریاست تلنگانہ ہے۔ 20 سال قبل شہر حیدرآباد میں بڑی کمپنیوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اب حیدرآباد میں ہی عالمی سطح کی کئی کمپنیاں قائم ہیں۔ تلنگانہ حکومت اختراعات، اسٹارٹپس کی بڑے پیمانے پر حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ تلنگانہ میں اسٹارٹپس کامیابی سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ کمپنیوں کو صرف 15 دن میں منظوریاں دی جارہی ہیں۔ 500 میٹر سے کم رقبہ پر مشتمل کمپنیوں کو فوری منظوریاں دی جارہی ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مشن بھاگیرتا اسکیم کی مرکز کے بشمول کئی ریاستوں نے نقل کی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا کالیشورم پراجکٹ صرف تین سال میں تکمیل کیا گیا ہے۔ کالیشورم پراجکٹ کے ذریعہ دریائے گوداوری کا پانی ہر ایک ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جارہا ہے۔ زرعی پیدا وار میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب سے زیادہ تلنگانہ میں چاول کی کاشت کی گئی۔ کسی بھی وزیر اعظم اور چیف منسٹر نے کسانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ تاہم چیف منسٹر کے سی آر نے زرعی شعبہ کو بہت زیادہ اہمیت دی۔ سال میں دو مرتبہ ریتو بندھو اسکیم سے کسانوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ ایک ایکڑ اراضی کو 5 ہزار روپے معاوضہ ادا کیا جارہا ہے۔ گزشتہ 7 سال کے دوران ریاست میںسرسبز و شاداب پروگرام کو 24 فیصد سے بڑھاکر 31 فیصد کیا گیا ہے۔ ن