چاول کی اس قسم کو امریکہ، یوکے اور مشرق وسطیٰ کو برآمد کیا جائے گا
حیدرآباد : حالانکہ تلنگانہ میں چاول کی پیداوار میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ ریاستی حکومت نے چاول برآمد کرنے پر بھی توجہ دینا شروع کیا ہے۔ چنانچہ تلنگانہ سونا چاول اب کویت میں فروخت ہورہا ہے۔ اس کے 24 ٹن کا پہلا کھیپ Befach ڈئبٹک وائیٹ رائس برانڈ کے ساتھ کویت کو روانہ کیا گیا ہے۔ آئندہ دو ماہ میں اس طرح کے کم از کم پانچ کنٹینرس روانہ کئے جائیں گے۔ یہ بات راجیش سرف، ڈائرکٹر Befach 4x پرائیویٹ لمیٹیڈ نے بتائی۔ یہ کمپنی پروفیسر جئے شنکر تلنگانہ اسٹیٹ اگریکلچرل یونیورسٹی کی مارکٹنگ پارٹنر ہے جس نے 2015ء میں نئے قسم کے چاول کو جاری کیا تھا۔ Befach کا اس کے مارکٹنگ نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے تلنگانہ سونا کو آن لائن اور آف لائن دونوں موڈس میں فروخت کرنے میں اہم رول ہے۔ سرف نے کہا کہ ’’ہم نے کویت میں ایک بڑے ڈسٹری بیوٹر کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے اس سال مارچ کے ختم تک تقریباً 200 ٹن تلنگانہ سونا چاول حاصل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اب تک کویت کی 24 ٹن چاول روانہ کیا گیا ہے‘‘۔ Befach کے تقریباً ایک لاکھ کسٹمرس ہیں اور ان میں کی ریپٹیڈ کسٹمرس ہیں۔ ہندوستان میں تلنگانہ سونا چاول کی فروخت میں اس سال مارچ کے اختتام تک ماہانہ 80 ہزار تا ایک لاکھ کیلو گرام کا اضافہ ہوگا اور برآمدات میں بھی تقریباً اسی مقدار میں اضافہ ہوگا۔ اس نے پہلے مرحلہ میں تقریباً 200 ٹن فروخت کئے۔ مارچ تک جملہ برآمدات 300 ٹن تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔ یہ کمپنی نلگنڈہ، مریال گوڑہ اور چاول کی کاشت کیلئے مشہور ریاست کے دوسرے مقامات کے کسانوں سے چاول کی خریداری کرتی ہے اور ہندوستان میں 200 ڈیلرس مقرر کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ راجیش سرف نے کہا کہ ’’ہم کو امریکہ کے امپورٹر اور ڈسٹی بیوٹر سے ایک LOI موصول ہوا ہے اور ہم کو یقین ہیکہ ہم اس سال اپریل تک یوروپ میں بھی پہنچ جائیں گے۔ ہم مشرق وسطیٰ کی مارکٹس کا بھی احاطہ کریں گے۔ ہم کو ایکسپورٹ مارکٹس سے اچھا رسپانس حاصل ہورہا ہے کیونکہ دیابیطس ایک عالمگیر مسئلہ ہے اور لوگوں کو تلنگانہ سونا چاول مفید معلوم ہورہا ہے۔