تلنگانہ سے ایک قطرہ پانی کی ناانصافی آندھرا کیلئے ممکن نہیں

   

حیدرآباد۔/16 مئی، ( سیاست نیوز) صدر نشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے کہا کہ جب تک کے سی آر چیف منسٹر ہیں وہ کرشنا سے ایک قطرہ بھی زائد پانی غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کی آندھرا پردیش کو اجازت نہیں دیں گے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدرنشین قانون ساز کونسل نے کہا کہ کے سی آر کے چیف منسٹر بننے کے بعد دریائے کرشنا کے تحت مختلف پراجکٹس کے کاموں کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہندری نوا پراجکٹ کو تلنگانہ سے پانی کی سربراہی کے خلاف عوام نے احتجاج کیا تھا۔ صدرنشین قانون ساز کونسل نے کہا کہ آندھرا پردیش کی جانب سے رائلسیما پراجکٹ کیلئے کرشنا سے روزانہ 3 ٹی ایم سی پانی کے حصول کی صورت میں تلنگانہ کے کئی اضلاع خشک سالی کا شکار ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں رائل سیما سے تعلق رکھنے والے قائدین کے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ کیلئے اس وقت نلگنڈہ اور بھونگیر سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے تائید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھونگیر کے موجودہ رکن پارلیمنٹ نے پولی چنتلا اور پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ کی تائید کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کی تعمیر کو روکنا حکومت کے علاوہ بی جے پی اور کانگریس کی بھی ذمہ داری ہے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جگن موہن ریڈی حکومت اقدامات کررہی ہے۔ پانی، ملازمتوں اور قدرتی وسائل میں ناانصافیوں کے خلاف 14 سال تک جدوجہد کے ذریعہ علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کی گئی لہذا تلنگانہ حکومت کسی بھی ناانصافی کو برداشت نہیں کرے گی۔ صدرنشین کونسل نے کہا کہ جگن کو متنازعہ جی او 203 سے فوری دستبرداری اختیار کرنی چاہیئے۔