تلنگانہ سے مرکز کو ایک روپیہ جانے پر صرف 40 پیسے کی واپسی

   

میٹرو پراجکٹ کی توسیع میں تعاون کی خواہش، راجناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد کے ٹی آر کا بیان
حیدرآباد ۔23۔ جون (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ تلنگانہ سے مرکز کو ایک روپیہ جاتا ہے جبکہ صرف 40 پیسے تلنگانہ کو حاصل ہورہے ہیں ۔ نئی دہلی میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ مختلف شعبہ جات میں ترقی کرنے والی ریاستوں کی مدد کرنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ راج ناتھ سنگھ سے درخواست کی گئی کہ مرکز کی جانب سے تلنگانہ کی ہر ممکن ممد کو یقینی بنائیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ایک طرف مرکزی حکومت اعتراف کر رہی ہے کہ تلنگانہ کئی شعبہ جات میں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ مرکزی اداروں کی جانب سے تلنگانہ کو کئی ایوارڈس پیش کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سکندرآباد کنٹونمنٹ کی اراضی کے سلسلہ میں مرکزی حکومت سے بارہا درخواست کی گئی ۔ ڈیفنس کی اراضیات کی منظوری کی صورت میں کئی ترقیاتی کام انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ ڈیفنس کی اراضیات کے سبب کئی ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ راج ناتھ سنگھ سے درخواست کی گئی کہ ترقیاتی کاموں میں تعاون کریں اور مختلف مقامات پر ڈیفنس کی اراضیات الاٹ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈیفنس کی اراضی الاٹ کی گئی تو حکومت دوسرے مقام پر متبادل اراضی فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 9 برسوں سے اراضیات کے سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو ریل کے توسیعی کاموں کے سلسلہ میں مرکز کو سفارشات پیش کی گئی ہے۔ حکومت میٹرو ریل کو مزید 31 کیلو میٹر تک توسیع دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ لکھنو ، احمد آباد میں کنٹونمنٹ کی اراضیات میٹرو پراجکٹ کے لئے الاٹ کی گئیں۔ اترپردیش میں میٹرو کے 10 پراجکٹس کے لئے مرکز تعاون کیا۔ احمد آباد میں پراجکٹ کیلئے فنڈس منظور کئے گئے لیکن حیدرآباد کو نظر انداز کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم ٹی ایس کے توسیعی منصوبہ کیلئے ریاستی حکومت نے اپنے حصہ کی رقم منظور کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کی مساعی میں مرکز کو تعاون کرنا چاہئے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مرکز کے عدم تعاون کی صورت میں اس مسئلہ کو عوام سے رجوع کیا جائے گا۔ ر