پانچ سال میںچھ شیروں کااضافہ ، دو پناہ گاہوں میں چھ چھوٹے بچے بھی دیکھے گئے
حیدرآباد ۔29 جولائی ( پی ٹی آئی ) کُل ہند سطح پر شیروں کے تخمینہ کی رپورٹ برائے 2018ء کے مطابق تلنگانہ کی دو محفوظ پناہ گاہوں میں شیروں کی تعداد بڑھ کر 25 تک پہنچ گئی ہے جو پانچ سال قبل 20تھی ۔ تلنگانہ میں شیروں کیلئے دو محفوظ پناہ گاہیں ہیں جن میں ناگر کرنول اور نلگنڈہ کے جنگلاتی علاقوں پر محیط امرآباد اور دوسری نرمل ، منچریال ، عادل آباد ، کمرم بھیم آصف آباد پر محیط کہرال پناہ گاہ ہے ۔ شیروں کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں شیروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ جنگل کا بادشاہ کہلائے جانے والے اس جانور کی آبادی 2006 میں 1,414 تھی جو 2014 میں 2,226 تک پہنچ گئی ۔ علاوہ ازیں شیروں کی تازہ ترین گنتی 2,967 اضافہ دکھایا گیا ہے ۔ تلنگانہ کے وزیر جنگلات اندرا کرن ریڈی نے اس رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے ۔محکمہ جنگلات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے یہاں کہا کہ تلنگانہ میں شیروں کیت عداد اضافہ کے ساتھ 26 تک پہنچنے کے علاوہ دیگر چھ چھوٹے بچے جنگلات میں نصب کیمروں میں قید ہوئے ہیں ۔ ان میں چند بچے سن بلوغ کو پہنچ رہے ہیں ۔ تلنگانہ کے پرنسپال چیف کنزرویٹر آف فارسٹس پی کے جھا نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’ ( اس بات پر ) خوشی کے تمام وجوہات ہیں ۔ تاسیس تلنگانہ کے موقع پر اس ریاست میں 20شیروں کی موجودگی کا تخمینہ کیا گیا تھا اس میں چھ کا اضآفہ ہوا ہے اور اب ان کی تعداد 26 تک پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موثر نگرانی اور تخمینہ رپورٹ برائے سال 2018ء میں امرآباد پناہ گاہ جو ’’ ٹھیک ‘‘ کے زمرہ میں تھی اب ’’ بہتر ‘‘ کے زمرہ میں پہنچ گئی ہے ۔ کیوال پناگاہ جو ’’ بہتر ‘‘ کے زمرہ میں تھی اب بھی اپنے موقف پر برقرار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان پناہ گاہوں میں شیر کے بچوں کا نظر آنا حوصلہ افزاء علامت ہے ۔