تلنگانہ فسادات سے پاک ، گنگا جمنی تہذیب کا تحفظ کیا گیا: کے سی آر

   

اپوزیشن پر تشدد اور غنڈہ گردی کا الزام، جکل ، بانسواڑہ اور نارائن کھیڑ میں انتخابی جلسوں سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد ۔30۔اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کے گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہ ہو اور تلنگانہ میں ترقی اور فلاح و بہبود کے دور کو جاری رکھنے بی آر ایس کو کامیاب کریں۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس کی انتخابی مہم کے طور پر آج جکل ، بانسواڑہ اور نارائن کھیڑ اسمبلی حلقوں میں جلسوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کانگریس اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے ۔ طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد تلنگانہ ریاست وجود میں آئی اور بی آر ایس نے 10 سالہ اقتدار میں ریاست کو ملک کی نمبر ون ریاست بنادیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کریں اور کانگریس پر بھروسہ کرکے فلاحی اسکیمات کو خطرہ میں نہ ڈالیں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اقتدار میں فلاحی اسکیمات پر عمل کو روک دیا جائیگا ۔ کے سی آر نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ سے قبل علاقہ میں پسماندگی تھی ، برقی اور پانی کے شعبہ میں بحران تھا لیکن بی آر ایس نے بحران پر قابو پالیا اور ملک کی واحد ریاست بن چکی ہے جہاں زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرن برت کے فیصلہ پر مرکز نے تلنگانہ کی تشکیل کا اعلان کیا اور ریاست کی اسکیمات کی برقراری عوامی کے فیصلہ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس حکومت عوام سے کئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ کانگریس زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے برقی سربراہی کے خلاف ہے اور دھرانی پورٹل کی برخواستگی سے رعیتو بندھو اسکیم پر عمل آوری روک دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے مختلف اسکیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے بی آر ایس کی تائید ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین نے رعیتو بندھو اسکیم پر عمل روکنے الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی ۔ چیف منسٹر نے جکل ، بانسواڑہ اور نارائن کھیڑ کی ترقی کیلئے مزید اقدامات کا وعدہ کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کو فرقہ وارانہ فسادات اور کرفیو سے نجات دلانے کا کارنامہ بی آر ایس کا ہے ۔ تلنگانہ کی روایتی گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہنچانے بعض طاقتیں سازش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف کسی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔ حکومت نے اقلیتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے ۔ تعلیمی ترقی کیلئے 200 اقامتی اسکول و کالجس قائم کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ہندو مسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی مثالی ہے ۔ شکست کے خوف سے بعض پارٹیاں بی آر ایس پر حملے کر رہی ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں میں کئی انتخابات ہوئے لیکن بی آر ایس سے کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو چاہئے کہ وہ عوام کو اپنے ایجنڈہ سے واقف کرائیں جسے کامیابی ملے گی، اسے کام کرنا چاہئے اور جو ناکام ہو وہ آرام کرے۔ انہوں نے اپوزیشن پر غنڈہ گردی اور تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ۔ اسپیکر اسمبلی پی سرینواس ریڈی ، وزیر پرشانت ریڈی ، رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل ، سابق اسپیکر مدھو سدن چاری اور نظام آباد بی آر ایس قائدین موجود تھے۔