تلنگانہ قانون ساز کونسل میں بی آر ایس کی مسلسل ہنگامہ آرائی

   

اجلاس ایک سے زائد مرتبہ ملتوی ، کارگذار صدر بی آر ایس کے ٹی آر پر مقدمہ درج کرنے کے خلاف احتجاج
حیدرآباد۔20۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں اپوزیشن بھارتیہ راشٹر سمیتی کے ارکان اسمبلی کی مسلسل ہنگامہ آرائی کے نتیجہ میں اجلاس کو ایک سے زائد مرتبہ مختصر مدت کے لئے ملتوی کیاگیا اور چائے کے وقفہ کے بعد بھی ایوان کی کاروائی میں خلل پیدا کرنے اور کاروائی چلانے کے لئے آمادہ نہ ہونے پر صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر جی سکھیندر ریڈی نے اجلاس کی کاروائی کو 21ڈسمبر کی صبح 10 بجے تک کے لئے ملتوی کردیا۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں اجلاس کی کاروائی کا صبح آغاز ہونے کے ساتھ بی آر ایس ارکان قانون ساز کونسل نے کارگذار صدر بی آر ایس مسٹر کے ٹی راما راؤ پر مقدمات درج کئے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے ۔ بی آ رایس ارکان کو نسل سیاہ بیاچس لگائے ہوئے پلے کارڈس کے ساتھ کونسل میں پہنچے تھے اور ان کی آمد کے ساتھ ہی کونسل میں شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران صدرنشین کونسل نے وقفہ سوالات کے درمیان جاری ہنگامہ آرائی کو دیکھتے ہوئے 15 منٹ کے لئے اجلاس کی کاروائی کو ملتوی کردیا اور کافی دیر کے بعد شروع ہوئی کاروائی کے ساتھ ہی دوبارہ بی آر ایس ارکان کونسل نے دوبارہ ہنگامہ آرائی شروع کردی ۔ اس دوران کونسل میں موجود ریاستی وزیر بی سی ویلفیر مسٹر پونم پربھاکر نے بی آر ایس ارکان کونسل سے اپیل کی کہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں تاکہ ایوان کی کاروائی کو بہتر انداز میں چلایا جاسکے ۔ ریاستی وزیر کے علاوہ صدرنشین کونسل کی جانب سے کی جانے والی مسلسل اپیلوں کے باوجود بی آر ایس ارکان قانون سازکونسل مسلسل سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور نعرہ بازی کر رہے تھے ۔ اپوزیشن ارکان قانون ساز کونسل کی ہنگامہ آرائی کے دوران صدرنشین کونسل مسٹر جی سکھیندر ریڈی نے چائے کے وقفہ کے لئے کونسل کی کاروائی کو ملتوی کردیا۔ چائے کے وقفہ کے لئے ملتوی کی گئی کاروائی لنچ کے بعد شروع ہوئی اور کاروائی کے آغاز کے ساتھ ہی دوبارہ بی آ ر ایس ارکان قانون ساز کونسل نے ہنگامہ آرائی شروع کرتے ہوئے ’جئے تلنگانہ ‘ کے نعرے لگانے شروع کردیئے ۔ اس دوران وزیر امور مقننہ مسٹر ڈی سریدھر بابو ایوان میں موجود تھے اور انہوں نے احتجاجی ارکان اسمبلی سے اپنی جگہ پر بیٹھنے کی اپیل کی لیکن احتجاجی اراکین نے احتجاج جاری رکھا اور صدرنشین کی جانب سے دوبارہ اپیل کئے جانے کے باوجود احتجاج جاری رکھے جانے پرصدرنشین نے کاروائی کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ۔3