تلنگانہ میں 2000 سے زائد طبی عملہ کورونا سے متاثر

   

اضافی ڈاکٹرس کا تقرر، دیہی علاقوںکی صورتحال پر حکومت کی نظر

حیدرآباد : تلنگانہ میں کورونا کے کیسیس میں اضافہ کے ساتھ ساتھ میڈیکل شعبہ سے وابستہ افراد میں خوف کا ماحول دیکھا جارہا ہے۔ محکمہ صحت نے اعتراف کیا کہ ابھی تک 2000 سے زائد ڈاکٹرس اور ہیلت کیر ورکرس کورونا سے متاثر ہوئے جس کے نتیجہ میں وہ کورونا کے مریضوں کے علاج کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔ ڈاکٹرس کی کمی سے نمٹنے کیلئے حکومت ڈاکٹرس اور دیگر عہدوں پر تقررات کا آغاز کر رہی ہے۔ ایسے ڈاکٹرس جو کورونا سے متاثر نہیں ہیں ، وہ بھی موجودہ صورتحال سے خائف ہیں۔ حکومت کو اندیشہ ہے کہ طبی عملہ میں کورونا کے پھیلاؤ کا اثر سرکاری دواخانوں میں علاج پر پڑ سکتا ہے ۔ ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی جانب سے ہر ممکن احتیاط کے باوجود آئسولیشن اور آئی سی یو وارڈس میں کام کرنے والے افراد متاثر پائے گئے ۔ محکمہ صحت کے مطابق ریاست میں ابھی تک کورونا سے 8 ڈاکٹرس فوت ہوئے ہیں۔ شہر کے مقابلہ دیہی علاقوں میں کورونا کے کیسیس میں اضافہ محکمہ صحت اور ڈاکٹرس کے لئے تشویش کا باعث بن چکا ہے ۔ ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر کے رمیش ریڈی کے مطابق حکومت نے حالیہ عرصہ میں کنٹراکٹ کی بنیاد پر 319 میڈیکل آفیسرس کا تقرر کیا ہے۔ یہ تقررات ڈسٹرکٹ ہاسپٹلس میں کئے گئے تاکہ ڈاکٹرس کی کمی نہ رہے۔ حکومت اضلاع کے تمام سرکاری دواخانوں میں کورونا کے علاج سے متعلق ادویات کی سربراہی پر توجہ مرکوز کرچکی ہے ۔ عہدیداروں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ موسمی بخار اور دیگر عوارض کی صورت میں خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ موسمی بخار سے کورونا کا کوئی تعلق نہیں۔ رمیش ریڈی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کورونا ٹسٹنگ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آندھراپردیش اور کرناٹک سے کورونا کے کئی مریض علاج کے لئے حیدرآباد پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کے 50 فیصد بستر آندھراپردیش اور کرناٹک کے مریضوں سے پُر ہوچکے ہیں۔ حکومت نے رعایتی شرحوں پر علاج کو یقینی بنانے کیلئے کارپوریٹ ہاسپٹلس کے 50 فیصد بستروں کو اپنے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان بستروں کی شرحوں کے بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔