حیدرآباد 25 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) تلنگانہ میں جاریہ سیزن میں ا ب تک بارش 38 فیصد کم ہوئی ہے تاہم ریاستی محکمہ زراعت کو امید ہے کہ زرعی شعبہ کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا نہیں پڑیگا کیونکہ ماہ اگسٹ اور ستمبر میں معمول کے مطابق بارش کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے بموجب ریاست میں یکم جون سے 25 جولائی کید رمیان جملہ 199 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جبکہ معمول کے مطابق 318.5 ملی میٹر بارش ہونی چاہئے ۔ اس طرح جملہ 38 فیصد تک کم بارش ہوئی ہے ۔ ریاستی پرنسپال سکریٹری ( اگریکلچر ) سی پارتا سارتھی نے کہا کہ اب تک بارش سے پنپنے والی فصلوں کی حالت بہتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ آئندہ دنوں میں بہتر اور معمول کے مطابق بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے ایسے میں زرعی شعبہ کیلئے زیادہ مشکلات نہیں ہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ موسمی فصلوں کیلئے بیج بونے کا کام جاری ہے اور دھان کی فصلیں بھی اگائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے تاہم کہا کہ دھان کیلئے زبردست بارش کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ کے آبپاشی پراجیکٹس جیسے سری رام ساگر پرااجیکٹ میں پانی آنے کیلئے پڑوسی مہاراشٹرا اور کرناٹک کے آبگیر علاقوں میں بارش ضروری ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی 15 تا 20 دن انتظار کرنا ضروری ہوگا اور ابھی سے کوئی اندازہ لگانا قبل ا زوقت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے اور کسی طرح کا مسئلہ پیدا ہونے کے امکانات نظر نہیں آتے ۔ محکمہ موسمیات کے عہدیدار راجا راو نے کہا کہ ماہ اگسٹ اور ستمبر میں معمول کے مطابق بارش کی پیش قیاسی ہے ۔ یہ امید کی جا رہی ہے کہ اب تک جو کم بارش ہوئی ہے اس کی ماہ اگسٹ اور ستمبر میں پابجائی ہوجائے گی ۔ تاہم ابھی سے یہ بھی کہنا ممکن نہیں ہے کہ جو 38 فیصد کی کمی ہے وہ آئندہ مہینوں میں پوری ہوپائیگی یا نہیں۔