تلنگانہ میں 38فیصد سے زائد لوگ مقروض ہیں : لاسی رپورٹ

   

حیدرآباد :۔ تلنگانہ میں ملک کی تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں مقروض لوگوں کا پانچواں بڑا فیصد ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے کئے گئے ایک حالیہ سروے میں یہ بات معلوم ہوئی ہے ۔ ’لا نگیٹیو ڈینل ایجنگ اسٹیڈی ان انڈیا ‘
(LASI)
رپورٹ کے مطابق 2017-18 میں جب یہ سروے منعقد کیا گیا تھا تو تلنگانہ میں 47.6 فیصد دیہی لوگ اور 22.8 فیصد شہری علاقوں میں رہنے والے لوگ قرض کی ادائیگی کررہے تھے ۔ ایک اوسط حساب سے تلنگانہ میں 38.7 فیصد لوگوں نے قرض حاصل کیا ہے ۔ یہ بات خاص طور پر اب بڑی اہمیت کی حامل ہوگئی ہے جب ریاست کے مختلف مقامات سے کئی لوگوں نے غیر قانونی لون ایپ فرمس کی ہراسانی کی شکایت کی ہے ۔ اس ہراسانی نے بعض لوگوں کو خود کشی پر بھی مجبور کیا ۔ حالیہ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو ڈیٹا کے مطابق 2019 میں تلنگانہ میں دیوالیہ ہونے یا قرض کے بوجھ کے باعث خود کشی کرنے والوں کی تیسری بڑی تعداد تھی ۔ اس سال 989 لوگوں نے خود کشی کی ۔ جب کہ مہاراشٹرا میں خود کشی کے سب سے زیادہ 1,526 کیسیس ہوئے اور کرناٹک میں 1,432 سروے کے مطابق کرناٹک میں مقروض لوگوں کا فیصد سب سے زیادہ ہے ۔ ڈاکٹر ایم راملو ، اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ معاشیات ، عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ اس میں کئی سماجی ، معاشی ، زرعی اور کلچرل پہلو ہوتے ہیں ۔ جس کی وجہ بعض ریاستوں میں لوگ قرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور قرض کے بوجھ کی وجہ خود کشی کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں ۔ اس کی ایک بڑی وجہ غذائی فصلوں کی کاشت کے بجائے کمرشیل فصلوں کی کاشت کرنا ہوتا ہے اور مونو ۔ کراپنگ جس میں کاشت کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں لیکن فصل سے ہونے والی آمدنی ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی جس کی وجہ کئی لوگ مقروض ہوجاتے ہیں ۔ دیہی علاقوں میں زیادہ تر لوگوں کی روزی کا انحصار زراعت پر ہوتا ہے ، جہاں قرض داری زیادہ ہوتی ہے ۔۔