14 فیصد آبادی والے مسلمانوں سے لگاتار بے اعتنائی : ارکان اسمبلی بھی انصاف دلانے میں ناکام
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد27 مئی : تلنگانہ میں مسلمانوں سے حکومت کے سوتیلے سلوک کی کئی مثالیں سامنے آنے لگی ہیں اور حکومت سوائے مسلمانوں کے دیگر طبقات کی ترقی کے سلسلہ میں جو اقدامات کررہی ہے اس کا 10 فیصد حصہ بھی مسلمانوں کو میسر نہیں آرہا ہے ۔ ریاست میں 14 فیصد آبادی والے مسلم نوجوان اگر اپنے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں تو حکومت سے انہیں 1یا2لاکھ روپئے بینک سے مربوط اسکیم کے ذریعہ جاری کئے جاتے ہیں لیکن 4 فیصدآبادی والے برہمن طبقہ کیلئے BESTکے نام سے شروع کی گئی اسکیم کے تحت جاری کی جانے والی رقم کی کوئی حد نہیں ہے اور انہیں درکار بجٹ کی اجرائی کے ذریعہ کاروبار کے آغاز کی سہولت دی جارہی ہے۔ ریاست میں 4 فیصد آبادی والے برہمن طبقہ کو تاحال حکومت سے 175 کروڑ سے زائد کی رقومات جاری کی جاچکی ہیں جو 3650 استفادہ کنندگان میں تقسیم کی گئی ۔تلنگانہ برہمن سمکشیما پریشد سے جاری تفصیلات کے مطابق تلنگانہ کے جملہ 3650 برہمن طبقہ کے افراد کو اپنے کاروبار شروع کرنے 175 کروڑ سے زیادہ کی رقم جاری کی جاچکی ہے ۔ تلنگانہ اسمبلی میں جہاں برہمن طبقہ کے ارکان کی تعداد محض 2ہے لیکن ان کی اس قدر مؤثر نمائندگی ہے کہ وہ اپنے طبقہ کے 3650 افراد میں حکومت سے 175کروڑ روپئے جاری کروانے میں کامیاب ہوچکے ہیں استفادہ کنندگان کو اپنے تجارتی ادارہ یا دیگر کام کے آغاز کیلئے رقم کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی بلکہ ویب سائٹ پر فراہم تفصیلات کے مطابق BEST اسکیم کے تحت جن استفادہ کنندگان کو رقومات جاری کی گئی ہیں ان میں 3 لاکھ تا12لاکھ روپئے رقومات جاری کی جاچکی ہیں۔برہمن سماج کے افراد کیلئے حکومت سے نہ صرف کاروبار کیلئے رقومات کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے بلکہ انہیں تعلیمی اسکالر شپس اور اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک روانگی پر 20 لاکھ روپئے اسکالر شپس دی جا رہی ہیں۔ تلنگانہ اسمبلی میں 12تا14فیصد آبادی والے مسلمانوں کی نمائندگی 8مسلم ارکان اسمبلی کرتے ہیں لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد بینک سے مربوط قرضہ جات کے سلسلہ میں 2 لاکھ سے زائد درخواستیں وصول کی گئی تھیں ان درخواستوں کی یکسوئی نہیں ہوپائی اور اب حکومت سے 120 کروڑ روپئے 26 ہزار نوجوانوں میں بینک سے مربوط قرض کے ذریعہ جاری کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور قرضہ جات کیلئے جملہ 1لاکھ 80 ہزار درخواستیں ملی ہیں جن میں 26ہزار درخواست گذارو ںکو قرض کی منظوری عمل میں لائی گئی ۔ حکومت ریاست میں 3650برہمن سماج والوں میں 175کروڑ تقسیم کرچکی ہے اور مسلم طبقہ کے 26ہزار نوجوانوں میں 120 کروڑ کی تقسیم کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے نہ صرف برہمن سماج کیلئے کاروبار کیلئے اسکیمات چلائی جا رہی ہیں بلکہ دلتوں کے علاوہ قبائیلی افراد اور دھنگروں‘ دھوبیوں اور نائی برہمن سماج کیلئے بھی اسکیمات ہیں لیکن دوسری بڑی اکثریت مسلم آبادی سے ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ برہمن سماج کے 2ارکان اسمبلی اپنے سماج والوں کیلئے 175 کروڑ کی اجرائی میں کامیاب ہوچکے ہیں لیکن مسلم طبقہ کی نمائندگی کرنے والے 8 ارکان اسمبلی مسلم نوجوانوں کو 1 یا 2 لاکھ روپئے جاری کروانے میں ناکام ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی ناکامی سے منتخبہ عوامی نمائندے بھی نالاں ہوچکے ہیں اور وہ خود ان عہدیداروں سے اب کسی مسئلہ پر نمائندگی کرنے تیار نہیں ہیں۔