پبلک سرویس کمیشن کے صدرنشین اور ارکان کا تقرر باقی
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کی عدم تشکیل کے نتیجہ میں مختلف محکمہ جات میں 50 ہزار جائیدادوں پر تقررات کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ تلنگانہ حکومت کو ہائی کورٹ نے اندرون چار ہفتے کمیشن کے صدرنشین اور ارکان کے تقرر کی ہدایت دی ہے۔ فی الوقت کمیشن میں صرف ایک رکن موجود ہے جو گزشتہ چند ماہ سے کارکردگی انجام دے رہے ہیں۔ چیرمین اور کورم کے بغیر کمیشن تقررات کا اعلامیہ جاری نہیں کرسکتا۔ صدرنشین اور ارکان کی میعاد کی تکمیل کو چند ماہ گزرنے کے باوجود حکومت نے تقررات نہیں کئے۔ علاوہ ازیں ریاست میں تقررات کیلئے نئے زونل سسٹم کو مرکز نے منظوری دے دی ہے۔ ہر ضلع میں آبادی کے اعتبار سے جائیدادیں منظور کی جائیں گی۔2016-19 کے درمیان ریاست میں 33 نئے اضلاع قائم کئے گئے تھے جبکہ تلنگانہ میں اضلاع کی تعداد 10 تھی۔ نئے زونل طریقہ کار کے تحت ہر ضلع میں 95 فیصد جائیدادیں مقامی امیدواروں سے پُر کی جائیں گی۔ منظورہ جائیدادوں کی 33 اضلاع میں آبادی کے اعتبار سے تقسیم کے بعد ہر محکمہ کی جائیدادوں کے بارے میں موقف واضح ہوگا۔ توقع ہے کہ یہ عمل 3 ماہ میں مکمل ہوگا۔ 2014 میں حکومت نے پروفیسر جی چکرا پانی کو صدرنشین مقرر کرتے ہوئے 9 ارکان کا تقرر کیا تھا ان میں سے 5 ارکان 2019 میں سبکدوش ہوگئے جبکہ صدرنشین اور 3 ارکان کی میعاد ڈسمبر 2020 میں مکمل ہوگئی جس کے بعد سے پروفیسر سائیلو چنتا واحد رکن ہیں اور انچارج صدرنشین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مکمل کمیشن کی تشکیل تک 50 ہزار جائیدادوں پر تقررات ممکن نہیں ہیں۔