تلنگانہ میں 58 فیصد آبادی شہری علاقوں میں قیام پذیر ہوگی

   

رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف انتباہ ، ٹی ایس بی پاس ویب سائیٹ کا کے ٹی آر کے ہاتھوں افتتاح
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں حیدرآباد کا جو روشن مستقبل ہے وہ ملک کے کسی دوسرے شہر کا نہیں ہے ۔ مستقبل میں تلنگانہ کے 58 فیصد عوام شہری علاقوں میں قیام کرنے کو ترجیح دیں گے ۔ جس میں 40 فیصد عوام آوٹر رنگ روڈ کے اطراف واکناف رہیں گے ۔ جس کے پیش نظر شہری علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ شہری علاقوں میں عمارتوں کے تعمیرات کی منظوریوں کی خاطر تیار کردہ ٹی ایس بی پاس ویب سائیٹ کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ نظم و نسق میں شفافیت لانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات لائے جارہے ہیں ۔ دھرانی پورٹل کا قیام ایک جرأت مندانہ اقدام ہے ۔ اس کے علاوہ ٹی ایس آئی پاس کی طرز پر ٹی ایس بی پاس متعارف کیا جارہا ہے ۔ 75 گز اراضی پر مکان کی تعمیرات کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔ اندرون 600 مربع گز اراضیات پر تعمیرات کے لیے مالکین خود درخواست داخل کرتے ہوئے منظوریاں حاصل کرسکتے ہیں ۔ 600 مربع گز سے زائد اراضیات پر تعمیرات کے لیے اندرون 21 یوم منظوریاں دینے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ منظوریاں حاصل کرنے کے معاملے اس طرح کی شفافیت پر مبنی نظام ملک میں کہیں بھی نہ ہونے کا دعویٰ کیا ۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ آئندہ 2 یا 3 ماہ میں جی ایچ ایم سی کا نیا قانون بنایا جائے گا ۔ نالوں ، ایف ٹی ایل اور بفر زونس میں غیر مجاز تعمیرات کے خلاف قانون سازی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ 1961 کے بعد شہر میں اتنی بھاری مقدار میں بارش ہوئی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد بڑے پیمانے پر اصلاحات لائے گئے ہیں ۔ اضلاع کی تشکیل جدید کے ساتھ 140 نئے منڈلس قائم کئے گئے ہیں ۔ سرکاری نظم و نسق کو عوام کی دہلیز تک پہونچانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ دھرانی پورٹل کے متعارف کے بعد شفاف طریقہ سے عام افراد کے لیے خدمات فراہم کی جارہی ہے۔ یہ قانون ملک کے لیے ٹرینڈ سٹیر میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ ریتو بندھو اسکیم پر مرکزی حکومت بھی عمل آوری کررہی ہے ۔ رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف کے ٹی آر نے انتباہ دیا ۔۔