ریاست کی اپیل پر مرکز کی رائے ۔ دیگر مقامات پر چھوٹے طیارے چلانے کی سفارش
حیدرآباد 2 اگسٹ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 6 نئے ایرپورٹس تعمیر کرنے کی تجویز پر مرکز نے تین ایرپورٹس کے قیام کو ممکن قرار دیا ہے۔ ماباقی تین ایرپورٹس کے قیام کو ناممکن قرار دیا ہے۔ تلنگانہ نے ریاست میں 6 نئے ایرپورٹس کے قیام کیلئے مرکز کو تجاویز روانہ کی تھی۔ چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے دورہ دہلی کے موقع پر وزیراعظم مودی، مرکزی وزیر شہری ہوا بازی اور ایرپورٹ اتھاریٹی عہدیداروں سے نمائندگی کی تھی جس کا سروے کرنے کے بعد ایرپورٹس ٹیکنو اکنامک فیزی بلیٹی کی قطعی رپورٹ مرکز نے تلنگانہ کو ارسال کی ہے جس میں بتایا گیا کہ 6 کے منجملہ تین مقامات مکمل سطح کے ایرپورٹس کی تعمیرات، بڑے ہوائی جہازوں کی آمد و رفت کیلئے معاون و مددگار ہونے ماباقی تین مقامات معاون نہ ہونے کی ایرپورٹ اتھاریٹی نے تصدیق کردی ہے۔ مختلف مقامات پر ایرپورٹس کے قیام، ہوائی جہازوں کی آمد و رفت اور اس کے امکانات اور فائدے نقصانات پر ایرپورٹ اتھاریٹی نے تفصیلی رپورٹ تیار کرکے 6 کے منجملہ تین ایرپورٹس کے قیام کو ممکن قرار دیا ۔ مرکز کی ٹیموں نے کئی مرتبہ تلنگانہ حکومت کی تجویز کردہ مقامات کا دورہ کیا جس کے بعد ورنگل کے ممنور، عادل آباد اور نظام آباد کے جکران پلی میں مکمل سطح کے ایرپورٹس کے قیام کیلئے مقامات معاون و مددگار ہونے کی رپورٹ پیش کی ہے۔ بھدرادری کتہ گوڑم پلوانچہ، محبوب نگر کے دیور کدرہ اور پداپلی کے بسنت نگر میں ایرپورٹس بڑے ہوائی جہازوں کی آمد و رفت کیلئے معاون نہ ہونے کی رپورٹ پیش کی ہے۔ تلنگانہ نے بڑے جہاز چلانے کی گنجائش نا رہنے پر چھوٹے جہاز چلانے کی اجازت کی مرکز سے خواہش کی ہے۔ حکومت نے ایرپورٹ اتھاریٹی کو مکتوب بھی روانہ کیا اور ایک اجلاس طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر پھر ایک مرتبہ زمینی سطح کا معائنہ کرنے پر زور دیا۔