تلنگانہ میں 7 مجالس مقامی انتخابات ٹی آر ایس کیلئے اہمیت کے حامل

   

Ferty9 Clinic

وزراء کو ذمہ داریاں، ناگر جنا ساگر کے ضمنی چناؤ پر چیف منسٹر کی توجہ
حیدرآباد۔ ریاست میں 7 مجالس مقامی انتخابات کیلئے سیاسی جماعتوں نے تیاریوں کا آغاز کردیا ۔ گریٹر ورنگل، کھمم، اچم پیٹ، سدی پیٹ، نکریکل، جڑچرلہ اور کتور مجالس مقامی انتخابات توقع ہے کہ سنکرانتی کے بعد ہوں گے کیونکہ عہدیداروں کو بلدیات میں حلقوں کی حد بندی و وارڈس کے تحفظات کو قطعیت دینے وقت درکار ہے۔ ٹی آر ایس کیلئے انتخابات اہمیت کے حامل ہیں اور حیدرآباد اور دوباک میں شکست سے سبق لیتے ہوئے کے سی آر بی جے پی کو موقع دینا نہیں چاہتے۔ سیاسی مبصرین ٹی آر ایس کیلئے مجوزہ انتخابات کو ’’ ایسیڈ ٹسٹ‘‘ سے تعبیر کررہے ہیں۔ چیف منسٹر یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا ناگرجنا ساگر کے ضمنی چناؤ سے قبل مجالس مقامی کے انتخابات ہوں یا ضمنی چناؤ کے بعد منعقد کئے جائیں۔ گرام پنچایتوں کو میونسپلٹیز میں تبدیل کیا گیا تھا ان میں سے 3 کی میعاد ڈسمبر میں ختم ہوچکی ہے۔ ورنگل، کھمم اور اچم پیٹ بلدیات کی میعاد مارچ میں جبکہ سدی پیٹ کی میعاد اپریل میں ختم ہوگی۔ نئے میونسپلٹیز ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کو حکومت سے مشاورت کے ذریعہ شیڈول طئے کرنا ہوگا۔ ٹی آر ایس ورنگل اور کھمم میونسپل کارپوریشنوں پر دوبارہ قبضہ کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیگی۔ ورنگل میں 58 نشستوں کے منجملہ ٹی آر ایس کے پاس 44 ہیں جبکہ کھمم میں جملہ 50 ڈیویژنس میں ٹی آر ایس 34 پر قابض ہے۔ دونوں کارپوریشنوں میں کانگریس ، بی جے پی کے علاوہ کمیونسٹ جماعتوں کا خاصہ اثر دیکھا گیا ۔ ٹی آر ایس کے علاوہ بی جے پی، کانگریس ، سی پی آئی و سی پی ایم نے تیاریوں کا آغاز کردیا ۔ حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر کے سی آر نے وزراء کو ابھی سے متحرک کردیا تاکہ ترقیاتی کاموں کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کی جاسکے ۔ وزیر آئی ٹی کے ٹی آر کو کھمم ‘ ٹی ہریش راؤ کو ورنگل کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع کے مقامی وزراء انتخابی مہم کی کمان سنبھالیں گے۔ ٹی آر ایس و بی جے پی نے ابھی سے کامیابی کیلئے دعویداری پیش کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر مجالس مقامی کے انتخابات کو اپنے لئے وقار کا مسئلہ بنا چکے ہیں۔