اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے قرض فراہمی اسکیم کی درخواستیں التوا کا شکار
حیدرآباد۔23۔جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگا نہ نے 9سال کے دوران بونال تہوار پر 78 کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں اور اس سال 15کروڑ روپئے کی تخصیص کے ذریعہ بونال تہوار کے انتظامات کروائے جا رہے ہیں ۔ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار سے مربوط کرنے کیلئے قرض کی فراہمی اسکیم کے تحت گذشتہ 9برسوں کے دوران 3لاکھ 80ہزار درخواستیں وصول کی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں اب تک قرض کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ مالی سال 2015-16 کے دوران ریاستی حکومت تلنگانہ نے پہلی مرتبہ مالیاتی کارپوریشن سے قرض کی اجرائی کی درخواستیں وصول کی تھیں اور اس وقت 1لاکھ 60ہزار سے زائد نوجوانوں نے ان قرضہ جات کیلئے درخواستیں داخل کی تھیں لیکن سال 2022 کے دوران ان درخواستوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نئی درخواستیں وصول کی گئی ہیں اور اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ 120کروڑ کی سبسیڈی رقومات مالی سال کے آغاز سے قبل جاری کردی جائے گی لیکن 2022میں وصول کی گئی قرضہ جات کی یہ درخواستیں اب تک بھی زیر التواء ہیں اور ان درخواستوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں اب تک کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ حکومت کی جانب سے بونال تہوار پر 9 سال کے دوران 78 کروڑ خرچ کئے گئے اور حکومت پر اعتماد انداز میں اس بات کا اعتراف کر رہی ہے بلکہ اعلان کیا جا رہاہے کہ بونال تہوار پر 78 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں لیکن جب اقلیتی بالخصوص مسلم نوجوانوں کو قرض کی بات کی جاتی ہے تو انہیں فراہم کرنے کیلئے ریاستی حکومت کے پاس 9 سال میں 120 کروڑ روپئے نہیں ہیں جو کہ نوجوانوں کو روزگار سے مربوط کرسکتے ہیں۔ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں درخواست کے ادخال کے لئے ایک درخواست گذار کو کم از کم 2000 روپئے کا خرچ آتا ہے کیونکہ انہیں صداقتنامہ آمدنی بنانے کے علاوہ دیگر اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ سال 2022 میں مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے درخواستوں کی وصولی کے اعلان پر زائد از 2لاکھ درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں ۔ حکومت میں شامل مسلم قائدین نے درخواستوں کی تعداد اور ان کی یکسوئی کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر کہا تھا کہ جتنی درخواستیں داخل کی گئی ہیں ان تمام کو قرض جاری کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا ۔ م
حکومت نے 2023-24 مالی سال کے دوران بھی قرضہ جات کی اسکیم کے لئے بجٹ کی تخصیص کا اعلان کیا لیکن اس میں رقومات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی جس کی وجہ سے اب تک بھی ان درخواستوں کی یکسوئی نہیں ہوپائی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے عہدیداروں اور صدرنشین کے علاوہ منتخبہ مسلم نمائندوں کی جانب سے بھی اس مسئلہ پر توجہ دلوائی گئی لیکن اس کے باوجود اس مسئلہ کو حکومت کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیا جا رہاہے ۔بونال تہوار کے لئے 78 کروڑ خرچ کرنے کے لئے حکومت کے پاس مالیہ موجود ہے لیکن مسلم نوجوانوں کو قرض دینے کے لئے حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے۔م