حیدرآباد ۔13۔ مئی(سیاست نیوز) رمضان المبارک کا دوسرا دہا اختتامی مرحلہ میں ہے اور کورونا لاک ڈاؤن کے 50 دن مکمل ہوگئے لیکن تلنگانہ کے ائمہ اور مؤذنین گزشتہ پانچ ماہ سے سرکاری اعزازیہ سے محروم ہیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ کی ادائیگی سے متعلق اسکیم پر عمل کیا جاتا ہے اور تقریباً 10 ہزار ائمہ اور مؤذنین اس اسکیم کے تحت اہل قرار دیئے گئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ائمہ اور مؤذنین دیگر خاندانوں کی طرح معاشی مسائل کا شکار ہوئے اور لاک ڈاؤن کے دوران مساجد میں تراویح کی اجازت نہ ہونے کے سبب وہ جاریہ سال تراویح کے نذرانہ سے محروم ہوگئے۔ موجودہ حالات میں ائمہ اور مؤذنین کو امید تھی کہ اگر انہیں وقف بورڈ سے پانچ ماہ کے بقایہ جات مل جائیں تو رمضان المبارک میں سہولت ہوگی ۔ اب جبکہ عید الفطر قریب آرہی ہے اور رمضان کے اخراجات کی تکمیل ائمہ اور مؤذنین کے لئے دشوار کن مسئلہ بن چکی ہے ۔ گزشتہ پانچ ماہ سے اعزازیہ سے محروم ائمہ اور مؤذنین وقف بورڈ کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے اگرچہ اعزازیہ کیلئے 13 کروڑ کا بجٹ جاری کیا ہے لیکن وقف بورڈ اعزازیہ کی اجرائی کے سلسلہ میں طریقہ کار کو طئے کرنے میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے پی ڈی اکاؤنٹ کے ذریعہ اسکیم پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے جبکہ اس اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی وقف بورڈ کے لئے مسئلہ بن چکی ہے۔ ائمہ اور مؤذنین کو جنوری کا اعزازیہ وقف بورڈ کے اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا تھا جبکہ پی ڈی اکاؤنٹ سے رقم منتقل نہیں ہوپارہی ہے جس کے نتیجہ میں ائمہ اور مؤذنین نومبر ۔ ڈسمبر ، فروری ، مارچ اور اپریل کے اعزازیہ سے محروم ہیں۔ اگر انہیں پانچ ماہ کے بقایہ جات جاری کئے جائیں تو خاطر خواہ رقم مل جائے گی جس سے لاک ڈاؤن اور رمضان المبارک کے اخراجات کی تکمیل میں مدد ملے گی۔ ائمہ اور مؤذنین نے وقف بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پی ڈی اکاؤنٹ کے بجائے بورڈ کے اکاؤنٹ سے رقم کی منتقلی کو یقینی بنائے۔