تلنگانہ میں الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کی تشکیل 8 ماہ سے تعطل کا شکار

   

Ferty9 Clinic

ریونت ریڈی کا چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب، کمیشن کے بغیر حکومت کے تمام اقدامات غیر قانونی

حیدرآباد ۔ 4 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری کمیشن کی عدم موجودگی میں حکومت کو محکمہ برقی سے متعلق اہم فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور حکومت کی جانب سے کمیشن کی عدم تشکیل سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوگا کہ محکمہ برقی میں بے قاعدگیوں کو جاری رکھنے کیلئے کمیشن تشکیل نہیں دیا گیا۔ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کو روانہ کردہ مکتوب میڈیا کیلئے جاری کیا جس میں ریگولیٹری کمیشن کی اہمیت اور افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 برسوں میں کئی اہم محکمہ جات کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کئی دستوری ادارے حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں مسائل کا شکار ہیں۔ لوک آیوکت ، انسانی حقوق کمیشن اس کی تازہ مثال ہے۔ حال ہی میں برقی شعبہ میں حکومت نے کئی اہم فیصلے کئے لیکن الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کے غیاب میں حکومت فیصلے کر رہی ہے۔ جن دستوری اداروں کے لئے دشواریاں پیدا ہوئیں ان میں الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن بھی شامل ہوچکا ہے۔ کمیشن کے صدرنشین اور ارکان کے عہدوں پر گزشتہ 8 ماہ سے تقررات نہیں کئے گئے اور نہ ہی اس بات کا اظہار ہورہا ہے کہ حکومت تقررات میں سنجیدہ ہے۔ برقی کی خریدی اور جنریشن پلانٹ کے قیام میں کئی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں جس کا میں نے عوام کے درمیان ثبوت پیش کیا ہے۔ اگر میرے الزامات درست نہیں ہیں تو میں نے عہدیداروں کو مباحث کا چیلنج کیا تھا ۔ حکومت کی جانب سے الزامات پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ان حالات میں کمیشن کے قیام میں تاخیر سازش کا حصہ دکھائی دے رہی ہے ۔ ریگولیٹری کمیشن کے قیام کیلئے 28 ڈسمبر کو حکومت نے ریٹائرڈ جج بھاسکر راؤ کی قیادت میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ صدرنشین کمیشن اور دو ارکان کے تقرر کے سلسلہ میں یہ کمیٹی اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرتی ہے۔ 8 ماہ گزرنے کے باوجود کمیشن کی تشکیل میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، اس کی وجوہات کیا ہے۔ مالیتی سال کے آغاز کو چار ماہ گزر چکے ہیں لیکن برقی شرحوں کے بارے میں کمیشن نے تاحال کوئی سفارشات نہیں کی ہے۔ 2014-15 ء کے بعد برقی امور میں کمیشن کا رول دن بہ دن گھٹ گیا۔ برقی شرحوں کے تعین ، برقی کی خریداری اور دیگر اہم امور میں عوام کی حصہ داری ختم ہوچکی ہے۔ 2020-21 ء کے لئے 2 نومبر سے قبل ریگولیٹری کمیشن کا قیام ضروری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت جاریہ سال بھی برقی کے امور میں من مانی فیصلے کرنا چاہتی ہے ۔ ریونت ریڈی نے واضح کردیا کہ کمیشن کے غیاب میں حکومت نے برقی شعبہ میں جو فیصلے کئے ہیں، وہ تمام غیر قانونی ہے۔ کمیشن کی عدم موجودگی میں عوام اور عوامی تنظیموں کو نمائندگی کیلئے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے ریگولیٹری کمیشن کی عاجلانہ تشکیل کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عدم تشکیل کی صورت میں حکومت کو اپنی من مانی اور بے قاعدگیاں جاری رکھنے کا موقع ملے گا۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی نے برقی خریدی میں ہزاروں کروڑ کی بے قاعدگیوں کا الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے چیف سکریٹری کی جانب سے مختلف محکمہ جات کی کارکردگی پر جاری کی گئی رینکنگ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چیف منسٹر کے کنٹرول میں موجود محکمہ برقی کی کارکردگی ابتر ثابت ہوئی ہے۔