تلنگانہ میں انجینئرنگ کی 22 ہزار سے زائد نشستیں خالی

   

طلبہ میں عدم دلچسپی کا رجحان ، ایمسیٹ کی تین مرحلوں کی داخلہ کونسلنگ مکمل
حیدرآباد ۔ 25 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست میں انجینئرنگ کی 22 ہزار سے زائد نشستیں خالی ہوچکی ہیں ۔ ریاست میں تینوں مرحلوں کی کونسلنگ کے بعد بچ جانے والی انجینئرنگ کی 22,679 نشستیں پائی جاتی ہیں ۔ ڈیمانڈ والی انجینئرنگ نشستوں کے علاوہ دیگر تمام شعبوں میں طلبہ کی دلچسپی عملاً ختم ہوچکی ہے ۔ ایم سیٹ کے آخری و تیسرے مرحلہ کی کونسلنگ کا کل اختتام عمل میں آیا ۔ ان انجینئرنگ کی نشستوں پر بھرتی کے لیے تینوں مراحل میں کوشش کی گئی باوجود اس کے کثیر تعداد میں نشستیں خالی ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں انجینئرنگ کی جملہ 79,856 نشستیں پائی جاتی ہیں ۔ جن میں سے 57,177 نشسیں یعنی 71% پر ہی بھرتی ممکن ہوپائی ہے جب کہ مزید 22,679 نشستیں خالی ہیں ۔ پہلے اور دوسرے مرحلہ کے بعد اسپیشل راونڈ کونسلنگ کے بعد بھی 29 فیصد نشستیں خالی ہیں ۔ جن طلبہ نے نشستیں حاصل کی ہیں انہیں 26 نومبر تک فیس ادا کرنی ہوگی اور کالجس میں رپورٹ کرنے کی عہدیداروں نے طلبہ کو ہدایت جاری کی ہے ۔ ساتھ ہی عہدیداروں نے بتایا کہ رپورٹ نہ کرنے کی صورت میں نشست کو مسترد کردیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کونسلنگ کے بعد بھی بڑے پیمانے پر نشستوں کا خالی رہنا طلبہ کی عدم دلچسپی کا سبب ہے چونکہ طلبہ کی اکثریت نے کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی سے متعلقہ شعبہ کو اہمیت دی ہے ۔ سی ایس ای اور آئی ٹی برانچس ہیں ۔ کنوینر کوٹہ کے تحت جملہ 44,114 نشستیں پائی جاتی ہیں ۔ جن میں 87% فیصد تک نشستیں بھرتی ہوچکی ہیں ۔ سیول ، میکانیکل سے متعلق کورسس میں داخلہ لینے کیلئے طلبہ میں کوئی جوش و خروش نہیں دیکھا گیا ۔ ان شعبوں میں 65 فیصد نشستیں خالی رہ گئیں ہیں ۔۔ ع