تلنگانہ میں انٹر میڈیٹ کالجس کو شفٹ سسٹم کے تحت چلانے کا منصوبہ

   

تجاویز چیف منسٹر کو منظوری کے لیے روانہ ، سکریٹری بورڈ آف انٹر میڈیٹ سید عمر جلیل کا بیان
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کالجس کو شفٹ سسٹم میں کرتے ہوئے ان کی کشادگی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ا ورکہا جار ہاہے کہ جلد ہی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں احکامات کی اجرائی عمل میںلائی جائے گی۔ تلنگانہ میں تعلیمی اداروں کی کشادگی کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن بورڈ آف انٹرمیڈیٹ نے انٹر سال اول کے لئے صبح اور سال دوم کے لئے دوپہر کے وقت کلاسس کا انعقاد کرنے کامنصوبہ تیار کرتے ہوئے حکومت کو روانہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس منصوبہ کو منظور کرلیا جائے گا۔ سیکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ جناب عمر جلیل نے بتایا کہ حکومت کو بورڈ نے اپنی تجویز روانہ کردی ہے اور چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے ان تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ توقع ہے کہ حکومت کو روانہ کی جانے والی ان تجاویز کو منظوری حاصل ہوجائے گی۔ مسٹر عمر جلیل نے بتایا کہ بورڈ کی جانب سے جاریہ تعلیمی سال کو مارچ کے اواخر یا اپریل کے اوائل میں ختم کرنے کی حکمت عملی تیار کی جار ہی ہے اسی لئے ریاستی حکومت کو سماجی فاصلہ کے ساتھ باضابطہ کلاسس کے آغاز کی تجاویز روانہ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو اس کے لئے بورڈ نے آن لائن تعلیم کے سلسلہ کو جاری رکھا ہوا ہے لیکن اب جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی کشادگی کے سلسلہ میں اقدامات کی اجازت دے دی گئی ہے تو ایسی صورت میں ریاستی حکومت ان رہنمایانہ خطوط پر عمل کرتے ہوئے باضابطہ کلاسس کا آغاز کرسکتی ہے ۔ سیکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹر میڈیٹ نے بتایا کہ بورڈ نے کافی مشاورت کے بعد دو علحدہ علحدہ وقتوں میں انٹر سال اول اور انٹر سال دوم کے لئے کلاسس کے آغاز کی تجویز تیار کرتے ہوئے اسے متعلقہ محکمہ کے اعلی عہدیداروں اور چیف منسٹر کو روانہ کردیا ہے۔ انہو ںنے مزید کہا کہ فی الحال ریاست میں طلبہ کے تعلیمی سال کے 100 دن ضائع ہوچکے ہیں اور وہ صرف آن لائن تعلیم پر انحصار کئے ہوئے ہیں لیکن اب جبکہ تعلیمی ادارو ںکی کشادگی کی گنجائش موجود ہے تو شفٹ سسٹم کے ساتھ انٹرمیڈیٹ کالجس کے آغاز کو یقینی بنایاجاسکتا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کالجس کی کشادگی کے سلسلہ جلد فیصلہ کئے جانے کی توقع ہے لیکن اگر ایسا کیا جاتا ہے تو بھی ایسی صورت میں طلبہ پر حاضری کی شرط عائد نہیں کی جاسکتی اور اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی اجازت کے بغیر طلبہ کلاس میں شریک ہونے نہیں دیا جاسکے گا کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط میں یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ حاضری کی شرط سے طلبہ مستثنیٰ رہیں گے ۔