نئی شراب پرانی بوتل
بنگال اور کیرالا میں نیشنل پاپولیشن رجسٹر کی تیاری پر فوری روک کے احکامات جاری
حیدرآباد۔24ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں بھی این پی آر کی تیاریوں پر فوری روک لگائی جانی چاہئے ۔ملک بھر میں شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے سلسلہ میں جاری احتجاج کے دوران بنگال اور کیرالہ نے نیشنل پاپولیشن رجسٹر کی تیاری سے متعلق تمام کاروائیوں کو فوری روک دینے کے احکامات جاری کردیئے ہیں اور دونوں ریاستوں میں این پی آر کی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم ہوچکی ہیں لیکن ریاست تلنگانہ میں این پی آر کے سلسلہ میں عہدیداروں کے انتخاب اور ان کی تربیت کے سلسلہ میں اقدامات جاری ہیں جنہیں فوری اثر کے ساتھ روک دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سال گذشتہ ماہ اگسٹ کے دوران اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں این آر سی کے لئے این پی آر کی تجدید کی جائے گی اور اس این پی آر کی بنیاد پر ہی ملک بھر میں این آر سی کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ حکومت ہند کے اس منصوبہ کے سلسلہ میں روزنامہ سیاست کی جانب سے سابق میںکئی خبریں شائع کی جا چکی ہیں اور یہ بھی بات منظر عام پر لائی جا چکی ہے کہ ریاست میں این پی آر کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے این آرسی کے نفاذ کیلئے این پی آر کا سہارا لیا جائے گا اور اسی ڈاٹا کا استعمال کیا جائے گا اس بات کو محسوس کرتے ہوئے ریاست بنگال میں چیف منسٹر بنگال ممتا بنرجی نے این پی آر کی تیاریوں پر روک لگا دی ہے اور ممتا بنرجی کی جانب سے ان احکامات کی اجرائی کے فوری بعد ریاست کیرالہ نے بھی عوامی خدشات اور مرکزی حکومت کی نیت پر شبہات کے پیش نظر کیرالہ میں بھی این پی آر کی تجدید کاری کے عمل کو روک دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں کی جانب سے این آر سی کے نفاذ کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے لیکن اس کے لئے ان حکومتوں کو بنیادی طور پر این پی آر کی تجدیدکاری کے عمل کو ہی روکنا ہوگا کیونکہ این پی آر کی تجدید کی صورت میں حکومت ہند کے پاس ملک کی تمام ریاستوں کے شہریوں کا 90 فیصد سے زائد ڈاٹا جمع ہوجائے گا اوراس ڈاٹا کا استعمال حکومت ہند اپنے منصوبہ کے مطابق این آر سی کیلئے استعمال کرے گی۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے شہریت ترمیم قانون کے خلاف پارلیمنٹ میں ووٹ ڈالنے کے بعد سے اب تک خاموشی اختیار کی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت نے این آر سی کے نفاذ سے انکار کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست کی جانب سے این آر سی کے نفاذ کرنے یا نہ کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ ریاست میں این پی آر یعنی شہریوں کے رجسٹر کی تجدید کاری کے کام کو روکا جانا بے انتہاء ضروری ہے۔