قطب شاہی دور کا کوئل کنڈہ قلعہ عوامی توجہ کا مرکز
قلعہ کی مسجد ، عاشور خانہ اور عیدگاہ کا تحفظ ضروری
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : آج کل قطب شاہی سلطنت کا ایک اور آوٹ پوسٹ قلعہ کوئل کنڈہ عوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ یہ قلعہ حیدرآباد سے 140 کیلو میٹر کے فاصلے پر محبوب نگر میں واقع ہے ۔ پر سکون مقامات کی سیر و تفریح کے خواہاں افراد کے لیے یہ ایک اچھا مقام ہے ۔ اس قلعہ میں ویرانی چھائی رہتی ہے لیکن وہاں آپ انواع اقسام کی چوڑیوں کو چہچاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ۔ قلعہ کی ایک جانب قدیم توپ موجود ہے جو قطب شاہی دور کی یاد تازہ کراتی ہے ۔ یہ قلعہ کافی بلندی پر واقع ہے ۔ قلعہ میں داخل ہونے کے لیے 7 دروازوں کو عبور کرنا پڑتا ہے ۔ پہلے باب الداخلہ پر ابراہیم قطب شاہ کا نام کنندہ ہے اور سال 1550 بتایا گیا ہے ۔ چوتھی گیٹ آپ کو شاہی محل کی طرف لے جائے گی ۔ قلعہ تک پہونچنے کے لیے کانٹوں سے پر جھاڑیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ قلعہ میں ایک پر شکوہ مسجد ، عیدگاہ اور لخت جگر رسول حضرت بی بی فاطمہ ؓ کے نام سے ایک عاشور خانہ بھی قلعہ میں دکھائی دیتا ہے اور ایک تالاب بھی واقع ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے لیے یہ ایک بہت بڑا سیاحتی مرکز بھی بن سکتا ہے کیوں کہ قلعہ اس قدر بلندی پر واقع ہے جہاں سے کوئل ساگر ڈیم کے حسین منظر کا بھی نظارہ کرسکتے ہیں اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں ۔ سورج کے طلوع و غروب ہونے کا منظر بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ ماہرین سرد موسم میں قلعہ کو جانے کا مشورہ دیتے ہیں اور موسم گرما میں جانے سے گریز کرنے پر زور دیتے ہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قلعہ کے اطراف و اکناف اور بلندی پر بھی نیٹ ورک کی بہترین سہولت ہے جو فون کے استعمال میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔ اس قلعہ سے 34 کیلو میٹر دور واقع کوئل ساگر بھی جاسکتے ہیں یہ ایک اوسط حجم کا آبپاشی پراجکٹ ہے جس کی تعمیر نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی حکمرانی کے دوران 1945-48 میں عمل میں آئی تھی ۔ یہ آبی ذخیرہ خوبصورت پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے جہاں مچھلیوں کا شکار بھی کرسکتے ہیں ۔۔