تلنگانہ میں برڈ فلو کی وبا نظر انداز ، حکومت پر مختلف گوشوں سے تنقید

   

مہاراشٹرا سے تلنگانہ کو مسلسل مرغیاں درآمد ، دیگر ریاستوں میں تشویشناک صورتحال
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے برڈ فلو کی علامات کی توثیق نہ کئے جانے پر مختلف گوشوں سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہاہے او رکہا جار ہاہے کہ ریاست کے 4 اضلاع میں بڑی تعداد میں سینکڑوں مرغیوں کے فوت ہونے کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے نظر انداز کی پالیسی کو خطرناک رجحان قرار دیا جا رہاہے ۔ ملک بھر میں 10 ریاستوں میں برڈ فلو کی توثیق کے باوجود بھی معاملہ کو نظر انداز کیا جانا کئی سوال پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے برڈ فلو کے معاملہ کو نظرانداز کرتے ہوئے عوام کی صحت سے کھلواڑ کیا جانے لگا ہے ۔ حالیہ عرصہ کے دوران تلنگانہ میں ورنگل ‘ پداپلی ‘ نرمل کے علاوہ نظام آباد میں مرغیوں کے فوت ہونے کی اطلاعات موصول ہونے کے باوجود یہ کہا جا رہاہے کہ یہ نامعلوم بیماری ہے جس کے سبب مرغیاں فوت ہورہی ہیں جبکہ ملک کی دس ریاستوں میں برڈ فلو کے سبب مرغیوں کے فوت ہونے کی توثیق کی جا چکی ہے۔ شہر حیدرآباد وسکندرآباد کو جن ریاستوں سے مرغی پہنچتی ہے ان میں ریاست مہاراشٹرا بھی شامل ہے اور مہاراشٹرا میں بھی 900 مرغیوں کے فوت ہوتے ہی ریاستی حکومت کی جانب سے اس بات کی توثیق کردی گئی ہے کہ ریاست مہاراشٹرا بھی برڈ فلو سے متاثر ہے جبکہ تلنگانہ میں مہاراشٹرا سے مرغیاں لانے کا سلسلہ بند نہیںکیا گیا اور نہ ہی خرید و فروخت کا سلسلہ بند کیا گیا بلکہ دونوں ریاستوں میں کاروبار اب بھی جاری ہے جو کہ شہریوں کی صحت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے گذشتہ ہفتہ الرٹ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے صورتحال پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے اور زو پارک میں بھی پرندوں کے آس پاس جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کے ذریعہ یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن چکن کی اموات کے سلسلہ میں حکومت نے واضح موقف اختیار کیا ہوا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سبب برڈ فلو کی نشاندہی جلد کرلیں گے اسی لئے عہدیداروں کو چوکس رکھنے کے لئے کہا گیا ہے۔وزارت افزائش موئشیاں کی جانب سے بھی مسلسل صورتحال کا جائزہ لیا جا رہاہے اور ویٹرنری عملہ کو خصوصی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے شک کی بنیاد پر پرندوں کی اموات کا جائزہ لیں ۔