تلنگانہ میں بہتر نظم و نسق کا وعدہ کب پورا ہوگا؟

   

چیف منسٹر سے محمد علی شبیر کا سوال،15 اگست کی مہلت ختم ہوگئی

حیدرآباد ۔ 4 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ 15 اگست کے بعد عوام کو حقیقی نظم و نسق کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ آخر کب پورا ہوگا ۔ محمد علی شبیر نے ٹوئیٹر پر اپنے بلاگ میں لکھا کہ معیشت کی دن بہ دن ابتر صورتحال پر چیف منسٹر کو کوئی تشویش اور فکر نہیں ہے۔ ریاست میں نوجوان روزگار سے محروم ہورہے ہیں اور صحت کا شعبہ بحران سے دوچار ہے۔ کے سی آر حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری مرتبہ چیف منسٹر کی حیثیت سے جائزہ لینے کے بعد کے سی آر نے اعلان کیا تھا کہ اگست تک انتخابی مراحل مکمل کرلئے جائیں گے اور 15 اگست کے بعد حقیقی نظم و نسق کارکرد ہوجائے گا۔ یوم آزادی کے بعد حکومت کی ساری توجہ بہتر حکمرانی اور عوام کی خدمت پر رہے گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 15 اگست گزر چکا ہے لیکن کے سی آر کی بہتر حکمرانی کا آج تک آغاز نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو اپنے شخصی مفادات کی تکمیل سے فرصت نہیں ہے۔ وہ آبپاشی پراجکٹس اور برقی خریدی کے معاملات میں بے قاعدگیوں میں ملوث ہیں۔ کانگریس پارٹی نے کالیشورم پراجکٹ میں دھاندلیوں کا ثبوت پیش کیا۔ اس کے علاوہ برقی خریداری کے ذریعہ سرکاری خزانہ پر بوجھ کی تفصیلات عوام کے درمیان جاری کی گئیں۔ اس کے باوجود چیف منسٹر کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے کہ تلنگانہ میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے۔ معاشی بحران کا اثر تلنگانہ میں صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے ۔ حکومت نے فلاحی اسکیمات کے بجٹ میں کمی کرتے ہوئے صاف طور پر اشارہ دے دیا کہ ریاست کی معاشی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ وقت دولتمند ریاست کو 6 برسوں میں مقروض ریاست میں تبدیل کردیا گیا ۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ریاست کا قرض ایک لاکھ 60 ہزار کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔