تلنگانہ میں بی ایڈ اور ڈی ایڈ کالجس کے وجود کو خطرہ

   

حصول تربیت کے باوجود سرکاری ٹیچرس کے تقررات ندارد، متعدد امیدواروں میں مایوسی

حیدرآباد ۔ 26 نومبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں بی ایڈ کالجس اور ڈی ایڈ کورس کا وجود خطرہ میں پڑ گیا۔ چند سال قبل جہاں اس کورس کیلئے غیرمعمولی مسابقت تھی اب اس پر توجہ کا فقدان پیدا ہوگیا ہے۔ کورس کی تکمیل کے بعد ملازمت کی عدم دستیابی اور سالوں انتظار بھی اس کورس سے عدم دلچسپی کا سبب بنا ہوا ہے۔ ڈی ایڈ کے بعد ٹیچرس پوسٹ کو یقینی تصور کیا جاتا تھا لیکن اب اس تعلق سے رجحان مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ طلبہ کے اس رجحان اور عدم دلچسپی کے سبب ڈی ایڈ کالجس کا وجود خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ گذشتہ 4 سالوں کے دوران 112 کالجس بند کردیئے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہیکہ اگر رجحان اس طرح جاری رہا تو وہ دن دور نہیں کہ ڈی ایڈ کورس کو ہی برخاست کردیا جائے گا۔ ڈی ایڈ کورس کی تکمیل کے بعد مہارت معیار کے علاوہ ملازمت کا یقینی طور پر حاصل ہونے کا یقین دلانا چاہئے۔ سرکاری مدارس میں ایس جی ٹی ٹیچرس کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ خانگی اسکولوں میں ملازمت کیلئے ڈی ایڈ کو لازمی کردیا جاتا ہے تو پھر اس کورس اور اس سے وابستہ افراد کالجس کو راحت حاصل ہوسکے۔ سال 2016-17ء کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں ڈی ایڈ کالجس کی تعداد 212 تھی جن میں 10 سرکاری اور باقی کے خانگی کالجس پائے جاتے تھے۔ اس تعداد میں سو کی کمی واقع ہوئی ہے اور چند کالجس بند ہونے کے در پر پہنچ چکے ہیں۔ کورس میں داخلہ لینے والوں کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے۔ سال 2017/18 میں ڈی ایڈ کی 11,500 سیٹ پائے جاتے تھے جن میں 7,650 نے داخلہ لیا۔ سال 2020-21 میں اس تعداد میں مزید کمی ہوئی۔ 6,250 نشستوں کے منجملہ 2,828 افراد نے داخلہ لیا۔ چند کالجس میں 20 داخلہ بھی نہیں ہوپائے۔ ع