ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ نے مقابلہ کیلئے کسی ایک لیڈر کا نام پیش کرنا لازمی
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی چیف منسٹر کے امیدوار کا اعلان کئے بغیر انتخابات میں حصہ لے گی اور کسی بھی قائد کو چیف منسٹر کے دعویدارکی حیثیت سے پیش نہیںکیا جائے گا۔ ریاستی صدر بھارتیہ جنتا پارٹی بنڈی سنجے اور مرکزی مملکتی وزیر مسٹر جی کشن ریڈی کے متعلق پارٹی قائدین کی رائے ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کو چیف منسٹر کے امیدوار کے طور پر پیش کیا جانا چاہئے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات سے تین سال قبل ایسا کوئی فیصلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہے کہ ریاست تلنگانہ میں چیف منسٹر کون ہوگا! بی جے پی قائدین کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے مقابلہ کیلئے بی جے پی کو کسی ایک قائد کا نام پیش کرنا چاہئے جبکہ بی جے پی کی جانب سے واضح کیا جا رہاہے کہ بی جے پی کسی بھی قائد کو چیف منسٹر کے امیدوار کے طور پر پیش نہیں کرے گی بلکہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی باضابطہ یہ اعلان کرے گی کہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی نگرانی میں لڑے جائیں گے۔ دوباک ضمنی انتخابات اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے تلنگانہ میں خود کو ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے اور بی جے پی کی مقبولیت میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے بی جے پی قائدین کی تلنگانہ عوام سے توقعات میں اضافہ ہونے لگا ہے لیکن ریاستی سطح پر بنڈی سنجے کمار کے علاوہ جی کشن ریڈی کے دو گروپس کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مرکزی بی جے پی دونوں میں سے کسی ایک قائد کو چیف منسٹر کے امیدوار کے طور پر پیش کرے لیکن پارٹی کے سینیئر قائدین کا احساس ہے کہ تلنگانہ میں مغربی بنگال کی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئے اور کسی بھی قائد کو چیف منسٹر کے طورپر پیش کرنے کے بجائے مرکزی قیادت کی نگرانی میں انتخابات میں حصہ لینے اور کامیابی کے بعد اس کا فیصلہ کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ بی جے پی مرکزی قیادت کی جانب سے فی الحال تلنگانہ اسمبلی کی 119میں 80تا90 نشستوں پر کامیابی کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اورکہا جا رہاہے کہ آئندہ تین برسوں کے دوران انتخابات سے قبل تبدیل ہونے والے حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی بی جے پی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ تلنگانہ میں پارٹی کی کیا حکمت عملی ہونی چاہئے۔ بی جے پی قائدین کا کہناہے کہ پارٹی کے نظریات کے مطابق قائدین و کارکن تلنگانہ میں بی جے پی کی کامیابی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور انہیں چیف منسٹر کے امیدوار سے زیادہ پارٹی کی کامیابی اہمیت کی حامل ہے۔