مقامی اداروں کے انتخابات میں بی جے پی کا شاندار مظاہرہ رہے گا
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ نے کہا کہ وہ ڈمی نہیں بلکہ طاقتور قائد ہیں۔ وقت آنے پر سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو مناسب جواب دینے کا اعلان کیا۔ راجہ سنگھ کے استعفیٰ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہائی کمان اس کا فیصلہ کرے گی۔ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے رام چندر راؤ نے کہا کہ کانگریس اور بی آر ایس کے قائدین اور ان کے میڈیا سیل کی جانب سے انہیں ڈمی صدر قرار دیتے ہوئے توہین کی جارہی ہے لیکن حقیقت میں وہ ڈمی نہیں بلکہ طاقتور ہیں۔ ان کا اگلا نشانہ مقامی اداروں کے انتخابات ہیں ، جس میں بی جے پی کو زیادہ سے زیادہ حلقوں پر کامیاب بناتے ہوئے وہ اپنی طاقت کو ثابت کریں گے ۔ رام چندر راؤ نے کہا کہ بی آر ایس کے بعد کانگریس پارٹی بھی تلنگانہ عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ کھمنڈ اور تکبر کا شکار ہونے والی بی آر ایس کو عوام نے اقتدار سے بیدخل کردیا، باوجود اس کے بی آر ایس کے قائدین نے اپنی شکست کا محاسبہ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے لوک سبھا انتخابات میں عوام نے بی آر ایس کو پوری طرح مسترد کردیا۔ بی آر ایس کے متبادل کے طور پر عوام نے ریاست میں کانگریس پارٹی کو اقتدار سونپا تھا لیکن کانگریس پارٹی وعدوں کو پورا نہ کرتے ہوئے عوامی اعتماد سے محروم ہوگئی۔ دراصل ریاست میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان خفیہ اتحاد ہے جس کی وجہ سے کانگریس حکومت بی آر ایس کے بدعنوان قائدین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے ۔ بی جے پی تلنگانہ میں تیزی سے مستحکم ہورہی ہے ، کانگریس اور بی آر ایس کا متبادل بن کر ابھر رہی ہے۔ اسمبلی اور لوک سبھا کے انتخابات اس کا ثبوت ہے ۔ حالیہ ایم ایل سی انتخابات میں بھی بی جے پی نے تین حلقوں میں شاندار کامیابی درج کرتے ہوئے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ مقامی اداروں کے انتخابات میں بھی بی جے پی چونکا دینے والے نتائج برآمد کرتے ہوئے کانگریس اور بی آر ایس کو سبق سکھائے گی۔ رام چندر راؤ نے کہا کہ وہ پارٹی کے ڈسپلن قائد ہیں۔ 14 مرتبہ جیل جاچکے ہیں ، لاٹھیوں کے مار بھی کھا چکے ہیں۔ نکسلائٹس سے مقابلہ بھی کرچکے ہیں۔ وقت آنے پر وہ سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن ان کی پہلی ترجیح یہ ہوگی کہ پارٹی میں تمام قائدین کو متحد کرتے ہوئے کام کریں اور بی جے پی کو کامیاب بنانے میں اہم رول اداد کریں۔2