فرقہ وارانہ ہم آہنگی ٹی آر ایس کا کارنامہ،گریجویٹ حلقوں سے ٹی آر ایس کو کامیاب بنانے کی اپیل
حیدرآباد۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کو روکنے کی طاقت صرف ٹی آر ایس کے پاس ہے اور روایتی گنگا جمنی تہذیب اور ہندو مسلم اتحاد کی برقراری کیلئے کونسل انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی ضروری ہے۔ گریجویٹ رائے دہندوں کے نام اپنے پیام میں وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہاکہ بی جے پی تلنگانہ میں قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ دیگر ریاستوں کی طرح پُرامن ماحول کو خراب کرتے ہوئے فرقہ وارانہ سیاست پر عمل کیا جائے۔ حیدرآباد 400 سالہ تاریخ کا حامل شہر ہے جو ملک میں ہندو مسلم اتحاد کا بے مثال نمونہ پیش کرتا ہے۔ گذشتہ سات برسوں میں کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن وامان کی برقراری کے ذریعہ حیدرآباد کو ملک کا پُرامن اور مثالی شہر بنادیا ہے۔ فرقہ پرست طاقتوں کو حیدرآباد کی ترقی اور پُرامن ماحول پسند نہیں ہے۔ گذشتہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی جے پی نے فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر عمل کرتے ہوئے شہر کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی لیکن عوام نے ان کوششوں کو ناکام بنادیا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کا مقصد ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔ مرکزی حکومت ایک طرف تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے تو دوسری طرف بی جے پی قائدین ترقی اور فلاح و بہبود کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔ گریجویٹ رائے دہندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ تلنگانہ ترقی کے ساتھ ساتھ امن و امان کی راہ پر گامن رہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل انتخابات میں کانگریس کا کوئی وجود نہیں ہے اور کانگریس کو ووٹ دینا دراصل اپنا ووٹ ضائع کرنا ہے۔ اقلیتوںکی بھلائی کیلئے کے سی آر حکومت نے اقامتی اسکولوں کا جال پھیلادیا ہے۔ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے 121 اقامتی اسکولوں کو جونیر کالجس میں اَپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اقلیتی طلبہ کو سیول سرویس اور دیگر مسابقتی امتحانات میں شرکت کیلئے کوچنگ فراہم کرنے 10 اقامتی اسکولوں میں سنٹر آف ایکسلینس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔