ریاست سے ڈکٹیٹر شپ حکومت کا خاتمہ یقینی ، 3 ڈسمبر کو اندراما راجیم قائم ہوگا ، محبوب نگر ، نارائن پیٹ میں انتخابی جلسوں سے خطاب
محبوب نگر /26 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاست میں ڈکٹیٹر شپ کا اب خاتمہ یقینی ہے ۔ تلنگانہ عوام تبدیلی کیلئے اب صرف 30 نومبر کے منتظر ہیں ۔ یہ پیش قیاسی ریاستی کانگریس صدر ریونت ریڈی نے کی ۔ وہ آج سہ پہر مستقر محبوب نگر کے ہریجن کلاک ٹاور سرکل پر زبردست کارنر میٹنگ سے مخاطب تھے ۔ حلقہ اسمبلی محبوب نگر کے امیدوار ایم سرینواس ریڈی کی انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی عوام دشمن پالیسی سے عوام عاجز آچکے ہیں اور قطعی فیصلہ کرلیا ہے کہ عوام دشمن حکومت کو اکھاڑ پھینکیں گے ۔ میں آپ کے ضلع کا بیٹا ہوں ۔ آج بڑے عہدے پر ہوں اور آپ کی قیادت کا موقع بھی مجھے ملے گا ۔ اگر آپ مجھے آشیرواد دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی ترقی ، زیر التواء پراجکٹس کی تکمیل بے روزگاروں کو روزگار کیلئے اندراماں راج ضروری ہے ۔ متحدہ ضلع کے 14 حلقوں پر کانگریس کو کامیاب بنائیں ۔ انہوں نے مقامی کانگریس قائدین کی سراہنا کی کہ ٹکٹ نہ ملنے کے باوجود این پی وینکٹیش ، عبیداللہ کوتوال اور سنجیو مدیراج جیسے قائدین نے پارٹی سے وفاداری کا ثبوت دیا اور امیدوار کی تائید میں کام کر رہے ہیں ۔ کے سی آر نے قدم قدم پر اقلیتوں کو دھوکہ دیا ۔ سکریٹریٹ کی مساجد کی شہادت 12 فیصد تحفظات واضح مثال ہیں ۔ کانگریس نے4 فیصد پر عمل کرکے بے شمار مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار سے جوڑا ۔ کانگریس ہی وہ واحد پارٹی ہے جو تمام طبقات کے ساتھ انصاف کرسکتی ہے ۔ مدیراج طبقہ جو ریاست کا قابل لحاظ طبقہ ہے بی آر ایس نے ایک حلقہ کا ٹکٹ بھی نہیںدیا جبکہ کانگریس نے 3 ٹکٹ دئے ہیں ۔ انہوں نے مقامی امیدوار بی سرینواس ریڈی کے حوالے سے کہا کہ ان کو ووٹ دیکر ڈکٹیٹر شپ کے خاتمہ کا آغاز کیجئے ۔ کلاک ٹاور سرکل پر عوام کا زبردست مجمع تھا ۔ کانگریس اقتدار میں آنا اور بدلاؤ ہونا ‘‘ کے نعرے لگا رہا تھا ۔ اس موقع پر سرینواس ریڈی نے بھی مخاطب کیا ان کے ہمراہ این پی وینکٹیش ایڈوکیٹ ، سنجیو مدیراج ، عبیداللہ کوتوال ، ونود کمار ، مدھو، رادھا امر و دیگر قائیدین موجود تھے ۔
نارائن پیٹ : مسلمانوں کو 12 فیصد ریزرویشن کا جھوٹا وعدہ کرنے والے کے چندراشیکھر راو کو آج لاکھوں کروڑوں روپئے کا کرپشن کرنے کے بعد انہیں حق نہیں کہ وہ تلنگانہ عوام سے ووٹ مانگیں ۔ان خیالات کا اظہار تلنگانہ پردیش کانگریس پارٹی صدر اے ریونت ریڈی نے نارائن پیٹ کے کالج گراؤنڈ میں منعقدہ کانگریس پارٹی وجے بھیری سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ نارائن پیٹ کانگریس پارٹی امیدوار محترمہ چٹم پرنیکا ریڈی ، سابق ضلع صدر کانگریس پارٹی کے شیواکمار ریڈی، تلنگانہ کانگریس ورکنگ کمیٹی ممبر ابھیجیت ریڈی، سمہادھا ریڈی و دیگر موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ 3 دسمبر کو تلنگانہ میں اندراما راجیم قائم کیا جائیگا۔ کانگریس پارٹی کی حکومت بننے پر کے چندرشیکھرراؤ کیلئے چیرلہ پلی جیل میں ڈبل بیڈروم کا انتظام کیا جائیگا جہاں چندرشیکھرراؤ انکے بیٹے ، بیٹی اور داماد کے ساتھ انکی کرپشن کیلئے رکھا جائیگا۔ رکن اسمبلی نارائن پیٹ ایس راجندر ریڈی نے سابقہ 9 سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر نارائن پیٹ عوام کو دھوکا دیا۔ نارائن پیٹ کو برائے نام ضلع بنانے اور دفاتر کے عمارتوں اور دفاتر کیلئے ضروری اشیاء کی عدم موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی ایس راجندر ریڈی جو سابقہ دو میقاتوں سے نارائن پیٹ رکن اسمبلی کی حیثیت سے ہیں انہوں نے دفاتر کی عمارتوں اور ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی کیوں نہیں بنایا؟. رکن اسمبلی نارائن پیٹ جنہوں نے تعلیم کو ہی اپنا ذریعہ معاش بنایا ہے انہیں نارائن پیٹ کی ترقی اور نارائن پیٹ عوام کے ساتھ عدم دلچسپی کا الزام لگایا۔ کانگریس پارٹی امیدوارہ ڈاکٹر چٹم پرنیکا ریڈی کی کامیابی پر نارائن پیٹ کو کوڑنگل کے برابر فنڈز فراہم کئے جائینگے۔ اور نارائن پیٹ کے کوٹہ کنڈہ، کانکرتی اور گارلاپاڈ کو منڈل کا درجہ دیا جائیگا۔ محترمہ ڈاکٹر چٹم پرنیکا ریڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نارائن پیٹ سے کانگریس پارٹی کی جیت یقینی۔ نارائن پیٹ سے کامیابی پر ہر گھر تک 6 گیارنٹیوں پر پہنچانے کا کام کیاجائیگا۔ نارائن پیٹ عوام کو حقیقی ترقی سے متعارف کرنے کا کام کیا جائیگا۔ اس موقع پر کے شیواکمار ریڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر چٹم پرنیکا ریڈی جنکے والد اور دادا کو نارائن پیٹ کی سرزمین پر شہید کیا گیا۔ آج یہاں پر موجود ہزاروں افراد اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ شہید چٹم نرسی ریڈی اور شہید چٹم وینکٹیشور ریڈی کی شہادت کو ضائع نہیں کرینگے اور ڈاکٹر پرنیکا ریڈی کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں گے۔ اس موقع پر جلسہ عام میں محمد غوث، بنڈی وینوگوپال، موہن ریڈی، سدھاکر، عبدالرحمن ، محمد یوسف ، محمود قریشی و دیگر قائدین موجود تھے۔ واضح رہے کہ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے آج نارائن پیٹ کے منی اسٹیڈیم کالج گراؤنڈ میں نارائن پیٹ حلقہ اسمبلی کی کانگریس امیدوارہ ڈاکٹر سی پرنیکا ریڈی کے عظیم الشان انتخابی جلسہ عام میں انسانی سروں کا سمندر نظر آرہا تھا ۔ خطاب کرتے ہوئے بی آر ایس حکومت سے سوال کیا کہ نارائن پیٹ ریاست آندھراپردیش کی قدیم بلدیہ دارالحکومت حیدرآباد کے بعد ریاست میں بلدیہ صرف نارائن پیٹ میں تھی لیکن اس شہر کے ساتھ بی آر ایس حکومت نے کیا سلوک کیا ۔ آج تک نارائن پیٹ بلدیہ میں انڈر گراؤنڈ ڈرینج سسٹم نہیں ہے ۔ سابق راج شیکھر ریڈی سرکار نے نارائن پیٹ ، کوڑنگل لفٹ اریگیشن کو منظوری دی اور اس کیلئے کام بھی شروع کیا گیا ۔ لیکن بی آر ایس حکومت نے اس اسکیم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس علاقہ کے ساتھ ناانصافی کی ۔