عہدیداروں اور ملازمین کو ٹیکہ اندازی کی تربیت، پہلا مرحلہ 10 دن میں مکمل کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد: کورونا ویکسین کیلئے ملک بھر میں حکومتیں اور عوام کا انتظار توقع ہے کہ آئندہ ماہ ختم ہوجائے گا ۔ تلنگانہ میں جنوری کے دوسرے ہفتہ سے کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی کے آغاز کی تیاریاں کی جارہی ہے ۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ 18 جنوری تک ویکسین تیار ہوجائے گی اور وہ عوام میں ٹیکہ اندازی کیلئے تیار رہے گی ۔ مرکزی حکومت نے ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کورونا ویکسن کے سلسلہ میں ترجیحی فہرست تیار کریں ۔ پہلے مرحلہ میں ضعیف العمر افراد ، پولیس ، ہیلت اور صفائی عملہ کو ویکسن دیئے جانے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے ۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت جی سرینواس راؤ نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں چار مختلف گروپس کے 80 لاکھ افراد کو ویکسین دی جائے گی جن میں ہیلت کیر ورکرس ، 50 سال سے زائد عمر کے افراد اور شدید بیماریوں کا شکار مریض شامل ہیں ۔ حکومت نے ریاستی سطح کے عہدیداروں کو ویکسین کی تقسیم کے سلسلہ میں دو روزہ ٹریننگ کا اہتمام کیا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں ضلع واری سطح پر ٹریننگ دی جائے گی۔ پرائمری ہیلت سنٹرس کے تقریباً 10 ہزار ورکرس کو ویکسین کی ٹیکہ اندازی کی تربیت دی جائے گی ۔ سرینواس راؤ نے بتایا کہ ہیلت ورکرس روزانہ کم از کم 100 افراد کو دوائی دیں گے۔ پہلے مرحلہ کو دس دن میں مکمل کرنے کی تجویز ہے۔ 13 مختلف بیماریوں کے سلسلہ میں ٹیکہ اندازی کی مہارت رکھنے والے ورکرس کو کورونا ویکسن کی خدمات سونپی جائیں گی ۔ 25 ڈسمبر تک عہدیداروں اور ملازمین کی ٹریننگ مکمل ہوجائے گی۔ متحدہ دس اضلاع میں حکومت نے اسٹیٹ میڈیکل سرویسز ، انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ ویکسین کی تقسیم کا فیصلہ کیا ہے۔ سنکرانتی تہوار کے بعد ویکسین کی تقسیم کا ملک بھر میں آغاز ہوسکتا ہے ۔ حیدرآباد میں دو تحقیقی اداروں کی جانب سے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے۔ ماہرین نے تجربات کے بغیر راست طور پر ویکسین دیئے جانے کو نقصان دہ قرار دیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ویکسین کی تیاری کے بعد دو تا تین مراحل میں اس کے مضر اثرات کا تجربہ کیا جانی چاہئے۔
