تلنگانہ میں جوڑتوڑ کی سیاست تیز، امیدوار کیمپس کو منتقل

   

نتائج سے قبل سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں، 16 فروری کو میئر اور چیرپرسن کے انتخابات
حیدرآباد۔ 12 فروری (سیاست نیوز) ریاست میں بلدی انتخابات کے نتائج سے قبل تلنگانہ کی سیاست میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ مختلف اضلاع میں بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کو متحد رکھنے میئر، ڈپٹی میئر، چیرپرسن اور وائس چیرپرسن کے انتخابات میں عددی برتری برقرار رکھنے کے لئے کیمپ سیاست کا آغاز کردیا ہے۔ ایگزٹ پول کے اندازوں اور موصول ہونے والے تاثرات کے پیش نظر متعلقہ میونسپلٹیز اور میونسپل کارپوریشنس کے انتخابات میں مقابلہ کرنے والے امیدواروں کو مہاراشٹرا، کرناٹک کے علاوہ حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں میں منتقل کیا جارہا ہے تاکہ کسی بھی امکانی توڑ جوڑ کو روکا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق عادل آباد میں بی جے پی کے امیدواروں کو مہاراشٹرا منتقل کیا جارہا ہے۔ سوریہ پیٹ میں سابق وزیر جگدیش ریڈی بی آر ایس امیدواروں کو کیمپس میں منتقل کرنے کی قیادت کررہے ہیں جبکہ عادل آباد کے علاقے آصف آباد علاقہ میں بھی بی آر ایس اور بی جے پی نے اپنے امیدواروں کو متحد کرنا شروع کردیا ہے۔ ضلع منچریال کے چنور اور کیتناپلی میونسپل چیرپرسن عہدوں کے لئے سخت مقابلہ متوقع ہے۔ مقامی ریاستی وزیر جی ویوک کی سرگرمیوں کے درمیان سابق رکن اسمبلی بی سمن نے بی آر ایس امیدواروں کو کیمپس میں منتقل کئے جانے کی اطلاعات ہیں تاکہ دونوں نشستوں پر کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔ سیاسی حلقوں میں یہ رائے پائی جارہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات محض مقامی اداروں تک محدود نہیں ہیں بلکہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے لئے سیمی فائنل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پارٹیوں کے لئے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کتنی بلدیات اور کارپوریشنس اپنے نام کرتے ہیں۔ نتائج کے اعلان سے قبل کیمپ سیاست نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے اور اب تمام نظریں 16 فروری کو منعقد ہونے والے چیرپرسن اور میئر کے انتخابات پر مرکوز ہوگئی ہیں جہاں واضح ہوگا کہ کس جماعت کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ 2