تلنگانہ میں دستیاب غذا محفوظ نہیں : رپورٹ

   

فوڈ سیفٹی قوانین پر عمل ندارد ۔ عملہ کی تعداد میں بھی قلت
حیدرآباد 28 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حیدرآباد کو ہوسکتا ہے کہ یونیسکو کا اختراعی شہر کا ٹائٹل تو حاصل ہوگیا ہو تاہم یہاں دستیاب غذا محفوظ نہیں ہے ۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹانڈرڈز اتھاریٹی آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ۔ رپورٹ کے بموجب تلنگانہ ملک کی ان 10 ریاستوں میں شامل ہے جہاں فوڈ سیفٹی قوانین پر شائد ہی عمل ہوتا ہے ۔ کہا گیا کہ فوڈ سیفٹی آفیسرس اور غذائی نمونوں کی جانچ کے بہتر لیب موجود نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں کل وقتی فوڈ سیفٹی عہدیدار متعین نہیں ہیں اور نہ ہی ٹسٹنگ لیبارٹریز موجود ہیں حالانکہ فوڈ سیفٹی قوانین کو لاگو ہوئے ایک دہے کا وقت ہو رہا ہے ۔ سرکاری ڈاٹا کے مطابق تلنگانہ میں صرف فوڈ سیفٹی عہدیدار ہیں جبکہ یہاں ضرورت 58 کی ہے ۔ ضلع سطح پر درکار فوڈ سیفٹی عہدیداروں کی تعداد 12 ہے لیکن صرف 9 دستیاب ہیں۔ تلنگانہ میں غذا کے 1,760 نمونے جانچ کئے گئے جن میں 168 میں سیفٹی اور معیار کے مسائل تھے جبکہ 23 نمونے مضر تھے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 191 سیول اور 33 فوجداری مقدمات اس سلسلہ میں درج کئے گئے ہیں تاہم صرف تین معاملات میں سزا ہوئی ہے اور صرف 15 معاملات میں جرمانے عائد کئے گئے ہیں۔