تلنگانہ میں شرا ب کی فروخت اور بیلٹ شاپس پر پابندی عائد کی جائے

   

کانگریس قائدین کی گورنر سوندرا راجن سے ملاقات، پولیس پر جانبدارانہ رویہ کا الزام

حیدرآباد۔/7 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس قائدین کے ایک وفد نے آج گورنر ٹی سوندرا راجن سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ریاست میں خواتین پر مظالم کے واقعات میں اضافہ اور شراب کی فروخت کے بارے میں یادداشت پیش کی۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا کی قیادت میں گورنر سے ملاقات کرنے والوں میں رکن پارلیمنٹ اے ریونت ریڈی، ارکان اسمبلی جگا ریڈی، سریدھر بابو، سیتا اکا، قانون ساز کونسل میں سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر، صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی انجن کمار یادو، صدر تلنگانہ یوتھ کانگریس انیل کمار یادو، ورکنگ پریسیڈنٹ پردیش کانگریس کمیٹی کسم کمار اور مہیلا کانگریس کے قائدین شامل ہیں۔ گورنر کو خواتین پر بڑھتے مظالم اور اس کی وجوہات سے واقف کرایا گیا۔ بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ ریاست میں شراب کی فروخت کو عام کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں جرائم کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ انہوں نے قومی شاہراہوں پر شراب کی دکانات کی اجازت اور بیلٹ شاپس کی اجازت کے بارے میں گورنر کو واقف کرایا۔ گورنر نے بیلٹ شاپس کے بارے میں مزید وضاحت کرنے کی خواہش کی کیونکہ وہ بیلٹ شاپس کے بارے میں واقف نہیں ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں یہ شراب کی دکانیں ہیں۔ گورنر نے کہا کہ خواتین پر مظالم کے سلسلہ میں اطلاعات ان کے پاس موجود ہیں۔ انہوں نے ان مسائل پر حکومت سے بات چیت کرنے کا تیقن دیا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ شراب کی فروخت میں اضافہ کے نتیجہ میں خواتین پر مظالم، عصمت ریزی اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں دشا عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ بھی شراب نوشی کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کیلئے کام کرنے کے بجائے پولیس نظم و نسق ٹی آر ایس قائدین کیلئے کام کررہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ چند برسوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ کے اعداد و شمار پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ دشا قتل کے معاملہ میں پولیس نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ گھر والوں کی شکایت پر فوری کارروائی کرنے کے بجائے کئی گھنٹوں تک ٹال مٹول کیا گیا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ پولیس کے غیر جانبدارانہ رویہ کو یقینی بنانے اور شراب کی فروخت پر کنٹرول کیلئے گورنر سے درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کی شرح میں اضافہ کے سبب عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوچکا ہے۔ پولیس پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوچکا ہے۔ کانگریس قائدین نے یادداشت میں کہا کہ پولیس انتظامیہ امن و ضبط پر قابو پانے میں ناکام ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں دشا قتل اور دیگر واقعات پیش آئے ہیں۔ گزشتہ چھ برسوں میں پولیس کا رویہ جانبدارانہ رہا اور وہ ٹی آر ایس قائدین کی خدمت پر مامور رہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں شراب کی فروخت سے ہونے والی آمدنی میں 10 ہزار کروڑ کا اضافہ ہوا ہے ۔ 2015 میں 11942 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی جو 2016 میں 13957 کروڑ ہوگئی۔ 2017 میں 16590 کروڑ آمدنی2018 میں بڑھ کر 20005 کروڑ تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شراب کی دکانات میں پرمٹ روم کی اجازت دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں اہم مقامات پر شراب نوشی عام ہوچکی ہے۔ نوجوان نسل میں شراب نوشی کا رجحان عام ہوچکا ہے۔ شراب نوشی سے عوام کی صحت متاثر ہورہی ہے اور غریب و متوسط طبقات مختلف امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ گورنر سے درخواست کی گئی کہ وہ بیلٹ شاپس اور پرمٹ رومس کے اجازت نامے منسوخ کرنے کیلئے حکومت کو ہدایت دیں۔