بی آر ایس اور کانگریس میں اقتدار کی دوڑ، بی جے پی کی نظریں معلق اسمبلی پر ، شہر کے بھانجے ‘ ماموں کے ساتھ
حیدرآباد ۔17۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی مہم جیسے جیسے شدت اختیار کر رہی ہے ، سیاسی پارٹیوں میں حکومت کی تشکیل کے بارے میں مختلف اندازے قائم کئے جارہے ہیں۔ برسر اقتدار بی آر ایس ہو کہ مین اپوزیشن کانگریس دونوں تشکیل حکومت کے بارے میں پر زور دعوے کر رہے ہیں، ایسے میں بی جے پی بھی دونوں سے پیچھے نہیں۔ بی جے پی قائدین حالیہ عرصہ تک تشکیل حکومت کا دعویٰ کر رہے تھے لیکن عوامی رجحان کو محسوس کرتے ہوئے وہ معلق اسمبلی کی قیاس آرائی کر رہے ہیں تاکہ مکمل حکومت نہ سہی لیکن تشکیل حکومت میں بادشاہ گر کا رول ادا کرسکیں۔ تینوں پارٹیوں کی جانب سے مختلف سروے کا اہتمام کیا گیا اور بعض میڈیا گھروں نے آزادانہ طور پر تلنگانہ اسمبلی کی نئی صورت گیری پر امکانی اندازے قائم کئے ۔ بیشتر سروے بی آر ایس کے حق میں رہے لیکن بعض نامور میڈیا ہاؤزس نے کانگریس حکومت کی پیش قیاسی کی ہے۔ بی آر ایس اور کانگریس میں کانٹے کی ٹکر کو دیکھتے ہوئے رائے دہندے بھی الجھن کا شکار ہیں لیکن امید کی جارہی ہے کہ 30 نومبر رائے دہی کے دن تک عوام واضح فیصلہ کرلیں گے۔ بی آر ایس ارکان اسمبلی کے خلاف عوامی ناراضگی کے نتیجہ میں کے سی آر اور ان کی ٹیم کو 2018 کی طرح شاندار مظاہرہ کی امید نہیں ہے۔ 2018 ء میں بی آر ایس کو 88 اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اور دیگر پارٹیوں سے انحراف کے بعد ارکان کی تعداد 104 ہوگئی۔ اس مرتبہ واضح اکثریت نہ سہی لیکن کے سی آر اور ان کے ساتھیوں کو سادہ اکثریت کی امید ہے۔ پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ 60 تا 62 نشستوں پر بی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوگی اور تشکیل حکومت کیلئے 60 ارکان کی تائید ضروری ہے۔ پارٹی کے بعض قائدین کا کہنا ہے کہ سادہ اکثریت کے علاوہ بی آر ایس کو مجلس کے 7 ارکان کی تائید حاصل ہوگی اور مجموعی تعداد 70 تک پہنچ جائے گی۔ بی آر ایس نے تلنگانہ تحریک کی کامیابی کے بعد ریاست کے پہلے الیکشن 2014 ء میں 63 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور اس وقت بھی کانگریس ، تلگو دیشم اور بائیں بازو کے ارکان نے انحراف کرتے ہوئے حکومت کو مستحکم کیا تھا۔ کے سی آر ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ موجودہ ارکان اسمبلی کے خلاف عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ ارکان اسمبلی کی ناراضگی کے بجائے کے سی آر کی صورت سے بی آر ایس کو ووٹ دیں۔ انتخابی جلسوں میں کے سی آر کی تقاریر دفاعی موقف کو ظاہر کر رہی ہے۔ ارکان اسمبلی کے خلاف ناراضگی کے نتیجہ میں پارٹی کیڈر بھی انتخابی مہم سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں۔ تلنگانہ میں حکومت کی ہیٹ ٹرک کا دعویٰ کرنے والے بی آر ایس قائدین دبی زبان میں اعتراف کر رہے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر بی جے پی کے ساتھ بھی سمجھوتہ ممکن ہے۔ مجلس اور بی جے پی کی تائید سے دوبارہ حکومت تشکیل پائے گی۔ دوسری طرف کانگریس نے سیاسی حکمت عملی کے ماہر سنیل کنگولو کی رپورٹ پر انحصار کیا ہے جنہوں نے کانگریس کو 70 تا 75 نشستوں پر کامیابی کا بھروسہ دلایا ہے۔ سنیل کی رپورٹ ابتداء ہی سے تشکیل حکومت کے حق میں ہے۔ بی جے پی 119 رکنی اسمبلی میں 20 نشستوں پر کامیابی کے بارے میں پرامید ہے اور اگر بی جے پی کو واقعی اتنی تعداد میں نشستیں حاصل ہوتی ہیں تو پھر معلق اسمبلی کی تشکیل یقینی سمجھی جائے گی ۔ 2014 ء میں تلگو دیشم سے مفاہمت کے ساتھ بی جے پی نے 45 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا اور صرف 5 پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ڈسمبر 2018 ء اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کو گوشہ محلہ کی واحد نشست پر اکتفا کرناپڑا۔ ایک سال بعد 2019 ء کے لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی نے چار حلقوں سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ہر کسی کو حیرت میں ڈال دیا۔ کیا بی جے پی 2019 ء کی تاریخ دہرائیگی ؟ سیاسی پارٹیاں بھلے کچھ دعوے کرلیں لیکن حقیقت بادشاہ گر تو ووٹرس ہیں جنہیں اپنا فیصلہ سنانے مزید دو ہفتے باقی ہیں۔ عوامی رجحانات و سیاسی پارٹیوں کے اندازے غلط بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔