تلنگانہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ، امن و ضبط کی صورتحال پر سوالیہ نشان

   

ہندو توا وادی سرگرمیوں کو من مانی کرنے کھلی چھوٹ ، قدوائی پیٹ اور ورشا کنڈہ میں مسلمانوں پر تشدد

 محمد مبشرالدین خرم

حیدرآباد۔2۔اپریل۔تلنگانہ میں بڑھ رہے فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات ریاست کی امن و ضبط کی صورتحال پر سوالیہ نشان لگانے لگے ہیں کیونکہ گذشتہ چند یوم کے دوران ریاست کے دو اضلاع میں جس انداز کے واقعات رونما ہوئے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاست میں ہندوتوا وادی سرگرمیوں کو من مانی کی کھلی چھوٹ فراہم کی جاچکی ہے ۔ جنوبی ہند میں ہجومی تشدد اور مسلم نوجوانوں کو زدوکوب کرتے ہوئے انہیں دھمکیاں دینے اور برسرعام معافی مانگنے کے لئے مجبور کیا جانا یا ہراساں کرتے ہوئے ان کی تذلیل کرنے جیسے واقعات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ ریاست تلنگانہ نہیں بلکہ شمالی ہند کی کوئی ریاست ہے جہاں گوشت کا کاروبار کرنے والے افراد کو برسرعام ’بھگوا‘ پہنچ کر نشانہ بنایا جارہاہے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کے خلاف اظہار خیال کرنے پر نوجوانوں کو فرقہ وارایت کو ہوا دینے والوں سے برسرعام ویڈیو بنا کر معافی مانگنے کے لئے مجبور کیا جا رہاہے۔ محبوب نگر 2ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے حدود میں قدوائی پیٹ کے علاقہ میں یاسر نامی نوجوان کو فرقہ پرستوں کے ایک گروہ نے ملعون رکن اسمبلی گوشہ محل راجہ سنگھ کی تصویر کو دودھ سے دھونے اور راجہ سنگھ کی تصویر کے آگے کھڑے ہوتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کا ویڈیو تیار کرنے کے لئے مجبور کیا اور سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل کرتے ہوئے اس نوجوان کی تذلیل اور راجہ سنگھ کی مخالفت کرنے کے انجام کے طور پر پیش کیا گیا۔ اسی طرح گذشتہ یوم جگتیال کے موضع ورشا کنڈہ ‘ ابراہیم پٹنم منڈل میں اقبال قریشی اور ان کے کم عمر فرزند محمد انس قریشی پر ’’بھگوادھاری‘‘ نوجوانوں کے حملہ کے بعد دونوں ہی شدید زخمی ہوگئے ۔ جگتیال میں پیش آئے اس واقعہ کا بھی مکمل ویڈیو بناتے ہوئے اس ویڈیو کو بھی تیزی کے ساتھ وائر ل کیا جا رہاہے تاکہ ریاست بھر کے مسلمانوں میں خوف پیدا کیا جاسکے لیکن اس کے خلاف حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ اور پولیس کی کاروائیوں پر مختلف گوشوں سے عدم اطمینان کا اظہار کیا جا رہاہے۔ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران پیش آئے ان 2 سنگین واقعات کے باوجود بھی کسی مسلم ادارہ ‘ تنظیم یا جماعت کی جانب سے حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کے لئے نہ روایتی نمائندگی کی گئی اور نہ ہی حکومت کی کارکردگی پر سوال کرنے کی جرأت کی جا رہی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ریاست میں درگاہ کی شہادت و منتقلی کے علاوہ مساجد و قبرستانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے باوجود مسلم تنظیموں کی خاموشی اور عدم نمائندگی کے نتیجہ میں فرقہ پرستوں کے حوصلوں میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ حکومت تلنگانہ پر اثر رکھنے اور اپنے مطالبات منظور کروانے کا دم بھرنے والی سیاسی جماعتوں‘ مذہبی تنظیموں کے علاوہ ان سماجی اداروں کے لئے ریاست کی موجودہ صورتحال قابل فکر ہے کیونکہ فرقہ پرستوں کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود اختیار کردہ خاموشی مستقبل میں تلنگانہ کے دیگر اضلاع ومواضعات میں بھی جہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہے فرقہ پرستوں کے حوصلوں کو بلند کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔3