تلنگانہ میں لولو گروپ کی 3,500 کروڑ کی سرمایہ کاری ، یوسف علی کا اعلان

   

حیدرآباد اور دوسرے شہروں میں مالس کا قیام، چنگی چرلہ میں میٹ پروسیسنگ پلانٹ ، کے ٹی آر سے ملاقات
حیدرآباد ۔26۔ جون (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کی جانب سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری کیلئے مساعی کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے مشہور لولو گروپ نے تلنگانہ میں 3500 کروڑ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے ۔ فوڈ پروسیسنگ اور ریٹیل آؤٹ لیٹس کے شعبہ میں یہ سرمایہ کاری کی جائے گی ۔ حکومت کی جانب سے لولو گروپ کو فوڈ پروسیسنگ پلانٹ کے قیام کے لئے اراضی الاٹ کی گئی ہے جہاں فروٹس ، ترکاری، دالیں ، مسالہ جات اور دیگر اشیاء کی پروسیسنگ کرکے برآمدات کی جائیں گی۔ لولو گروپ کے صدرنشین اور مینجنگ ڈائرکٹر ایم اے یوسف علی نے آج وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ اور ریاستی حکومت کے عہدیداروں کی موجودگی میں یہ اعلان کیا۔ لولو گروپ کی جانب سے ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی عالیشان ریٹیل آؤٹ لیٹس قائم کئے جائیں گے اور غذائی اشیاء کی بین الاقوامی معیارات کے مطابق درآمدات کے علاوہ فروخت کی جائے گی۔ کے ٹی راما راؤ نے دھان کی پیداوار، ڈیری انڈسٹری ، مچھلی کی افزائش اور میٹ پروڈکشن کے شعبہ جات میں تلنگانہ کی ترقی کا حوالہ دیا جس پر یوسف علی نے کہا کہ وہ تلنگانہ میں فش پروسیسنگ یونٹ قائم کریں گے ، اس کے علاوہ میٹ پروسیسنگ پلانٹ قائم کیا جائے گا ۔ انہوں نے تلنگانہ سے چاول حاصل کرنے کا اعلان کیا۔ یوسف علی نے کہا کہ میں تلنگانہ کی ترقی اور کارناموں سے بے حد متاثر ہوں۔ کوچی میں فش پروسیسنگ پلانٹ قائم کیا گیا ہے ، اسی طرح کا ایک پلانٹ تلنگانہ میں قائم کیا جائے گا ۔ حکومت کی جانب سے اراضی کے الاٹمنٹ کے فوری بعد تعمیری کاموں کا آغاز ہوگا۔ لولو گروپ کی جانب سے چنگی چرلہ میں 200 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری سے انتہائی عصری میٹ پروسیسنگ پلانٹ قائم کیا جائے گا جس کی صلاحیت روزانہ 60 ٹن رہے گی۔ آئندہ 18 ماہ میں کمرشیل آپریشن کا آغاز ہوگا۔ لولو گروپ نے گزشتہ سال ورلڈ اکنامک فورم کے ڈاؤس میں منعقدہ اجلاس میں تلنگانہ حکومت کے ساتھ یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے تھے۔ یوسف علی نے پروجکٹ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں پہلے پروجکٹ کے تحت 500 کروڑ کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ 5 لاکھ مربع فٹ پر موجود منجیرا مال کو لولو مال کا نام دیا جائے گا اور یہ اگست کے اواخر یا ستمبر کے پہلے ہفتہ میں افتتاح کے لئے تیار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ 300 کروڑ کی سرمایہ کاری سے یہ مال قائم کیا جائے گا جس میں 2000 افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دو لاکھ مربع فٹ اراضی پر میگا لولو ہائپر مارکٹ کا قیام عمل میں آئے گا۔ لولو گروپ کی جانب سے مزید تین مال قائم کرنے کی تجویز ہے جن میں حیدرآباد میں 2000 کروڑ سے شاپنگ مال اور شہر کے مضافاتی علاقوں اور ریاست کے بڑے شہروں میں منی مالس قائم کئے جائیں گے۔ آئندہ چند ماہ میں مالس کے لئے اراضی کی نشاندہی کی جائے گی اور18 تا 24 ماہ میں مالس افتتاح کیلئے تیار رہیں گے۔ یوسف علی نے تلنگانہ میں سرمایہ کے حصول کے لئے کے ٹی راما راؤ کی مساعی کر سراہا اور کہا کہ میں نے ڈاؤس میں کے ٹی آر کو صبح 7.30 تا رات دیر گئے تک سرمایہ کاروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے دیکھا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ہندوستانی ملٹی نیشنل کمپنی اور لولو گروپ کے صدرنشین یوسف علی کی جانب سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری سے اتفاق ریاست کیلئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مرتبہ چیف منسٹر کے سی آر نے یوسف علی سے ملاقات کے بعد ان کی سادگی سے متاثر ہوکر ہدایت دی تھی کہ لولو گروپ کے فروغ کیلئے ہر ممکن مدد دی جائے۔ کے ٹی آر نے گزشتہ 9 برسوں میں مختلف شعبہ جات میں ریاست کی ترقی کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 ء میں انفرادی شرح آمدنی 1.12 لاکھ تھی جو آج بڑھ کر 3.17 لاکھ ہوچکی ہے۔ جی ایس ڈی پی 2014 ء میں 5.05 کروڑ تھی جو بڑھ کر 13.27 لاکھ کروڑ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کی پیداوار میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے ۔ پڑوسی ریاستیں ٹاملناڈو اور کرناٹک کی جانب سے تلنگانہ سے دھان حاصل کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود تلنگانہ حکومت نے مدد کو جاری رکھا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ریٹیل آؤٹ لیٹس کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت دی ہے اور لولو گروپ کو اس فیصلہ سے فائدہ ہوگا اور تین شفٹوں میں مالس کارکرد رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فشریز پروڈکشن کے معاملہ میں تلنگانہ کو تیسرا مقام حاصل ہوگا ہے۔ سرسلہ ضلع میں 370 ایکرس پر اکوا ہب تعمیر کیا جارہا ہے اس کے علاوہ حکومت نے 300 کروڑ سے میگا ڈیری پلانٹ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس کا اگست میں افتتاح ہوگا۔ ر