راہول گاندھی کی محبت کی دوکان میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نفرت کا سامان فروخت کررہے ہیں
حیدرآباد ۔ 20 جون (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ریاستی سکریٹری سابق صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن امتیاز اسحق نے اقلیتی مسائل پر کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آج محبوب نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس نے انتخابات کے دوران جاری کئے گئے مائناریٹی ڈیکلریشن سے مکمل انحراف کرتے ہوئے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو دھوکہ دیا ہے۔ امتیاز اسحاق نے کرکٹ کی اصطلاح کا دلچسپ اور تیکھا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کے اندرونی حالات کو بے نقاب کیا۔ بی آر ایس کے قائد نے کہا کہ محمد اظہرالدین کو کانگریس نے اپنی ٹیم (کابینہ) میں تو شامل کرلیا مگر انہیں کھیلنے بالخصوص بیٹنگ اور فیلڈنگ کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا جارہا ہے۔ اس وقت محکمہ اقلیتی بہبود میں فہیم قریشی بولنگ کررہے ہیں اور محمد اظہرالدین بیٹنگ کررہے ہیں۔ اقلیتی امور اور بجٹ کے تعلق سے وزیراقلیتی بہبود کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی آزادانہ فیصلے کرنے کی اجازت ہے۔ انہیں صرف گیسٹ منسٹر بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ محمد امتیاز اسحق نے ریاست کی لا اینڈ آرڈر کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں تلنگانہ کے تین مقامات جگتیال، محبوب نگر اور ملکاجگری میں مسلمانوں کے خلاف سنگین واقعات پیش آئے۔ ان واقعات پر چیف منسٹر اور وزیراقلیتی بہبود کی خاموشی معنی خیز ہے۔ ایک طرف راہول گاندھی ملک بھر میں محبت کی دوکان کھولنے کا دعویٰ کررہے ہیں تو دوسری طرف تلنگانہ میں ان کے ہی چیف منسٹر ریونت ریڈی اس دکان میں نفرت کا سامان فروخت کررہے ہیں۔ امتیازاسحق نے اقلیتوں کیلئے 4000 کروڑ کا بجٹ سبسیڈی کیلئے علحدہ 1000 کروڑ کا بجٹ مختص نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ مولانا ابوالکلام تحفہ تعلیم، آئمہ و مؤذنین سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔2